خیرپور کے قریب گاؤں بٹو چانڈیو میں قتل کیس کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

فہرستِ مضامین

خیرپور کے قریب ٹنڈو مستی تھانے کی حدود میں واقع گاؤں بٹو چانڈیو میں غیرت کے نام پر بے دردی سے قتل کی گئی خاتون خالدہ عرف روبینہ چانڈیو کے مقدمے میں گرفتار دو مرکزی ملزمان قیصر چانڈیو اور ولی محمد چانڈیو کو پولیس نے عدالت میں پیش کر دیا۔

عدالت نے ایک ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے اور دوسرے کو پولیس ریمانڈ پر دینے کا حکم جاری کیا۔

فرسٹ سول جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ ندیم علی بھُرڑو کی عدالت میں پولیس کی جانب سے ملزمان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست دائر کی گئی۔

عدالت نے دونوں ملزمان کے الگ الگ بیانات لینے کے بعد قیصر چانڈیو کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جبکہ دوسرے ملزم ولی محمد چانڈیو کو 4 روزہ پولیس ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم قیصر چانڈیو نے عدالت کے سامنے جرم کا اعتراف بھی کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش شفاف انداز میں جاری ہے اور ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کے لیے تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ دیگر ملوث افراد کی گرفتاری بھی جلد عمل میں لائی جائے گی۔

ٹنڈو مستی کے قریب گاؤں بٹو چانڈیو میں چھ روز قبل غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی نوجوان خاتون روبینہ چانڈیو عرف خالدہ چانڈیو کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کے لیے آج ضلع خیرپور میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم رہانا جمانی کی سٹی صدر اور ان کے ہمراہ عہدیداران نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی۔

اس موقع پر قرت العین، جنرل سیکریٹری ضلع خیرپور اور روبینہ بھٹو، نائب صدر سٹی خیرپور بھی موجود تھیں، جنہوں نے متاثرہ خاندان سے گفتگو کی اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

اسی واقعے کے حوالے سے سماجی کارکن شہناز شیخ نے بھی متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور اہلِ خانہ کے ساتھ افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے مقتولہ کے والد اور والدہ کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں