امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنے افزودہ اور ذخیرہ شدہ یورینیم حوالے کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کے قریب ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، اس پیش رفت سے قبل اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے، جس کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف ممکنہ فضائی حملوں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی دھمکی دی تھی۔
ادھر حال ہی میں ٹرمپ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان بھی کیا تھا اور عندیہ دیا تھا کہ دونوں ممالک کے رہنما چند روز میں وائٹ ہاؤس میں ملاقات کر سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی کے فوراً بعد سامنے آئی ہے، جبکہ پاکستان دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی رپورٹ میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کرتے دکھایا گیا۔ قالیباف اس ایرانی وفد کی قیادت کر رہے تھے جو گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شریک تھا، تاہم وہ بات چیت کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی تھی۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے واشنگٹن کی شرائط قبول نہ کیں تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، جن میں ناکہ بندی اور اہم تنصیبات پر حملے شامل ہو سکتے ہیں۔
ان بیانات کے بعد صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ صورتحال ایک اہم موقع فراہم کر رہی ہے اور امریکہ تہران کے ساتھ معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ ممکنہ معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان کا دورہ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق ایران “جوہری مواد” حوالے کرنے پر تیار ہے، جس سے مراد افزودہ یورینیم ہے ایسا مواد جسے امریکہ کے بقول جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔