پوپ لیو اور ٹرمپ کی لڑائی کیا رنگ لائے گی؟

فہرستِ مضامین

افریقہ کے اہم دورے کے آغاز پر جب پوپ لیو پیر کے روز الجزائر روانہ ہو رہے تھے تو ان کے سامنے ایک واضح انتخاب موجود تھا: آیا وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی گئی سخت تنقید کو نظر انداز کریں یا اس کا کھل کر جواب دیں۔

پوپ نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے براہِ راست ردعمل دینے کا فیصلہ کیا اور ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بنایا۔ طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ٹرمپ حکومت سے کوئی خوف نہیں اور وہ خدا کے پیغام کو بلا جھجھک اور بلند آواز میں بیان کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ انجیل کے پیغام کو غلط مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، جبکہ جنگوں میں بے گناہ جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کوئی بہتر راستے کی بات کرے۔

عالمی سطح پر نئی محاذ آرائی

پوپ لیو کے ان بیانات نے انہیں عالمی سطح پر ٹرمپ کے ایک نمایاں مخالف کے طور پر سامنے لا دیا ہے، اور یوں پہلی بار ایک امریکی پوپ اور امریکی صدر کے درمیان کھلی کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

تاہم شکاگو سے تعلق رکھنے والے پوپ لیو اپنی نرم مزاجی اور محتاط انداز کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایک مذہبی تنظیم میں گزارا جہاں اتحاد اور سادگی کو اہمیت دی جاتی ہے، اسی لیے ان کی ترجیح بھی اختلاف کے بجائے پل بنانا رہی ہے۔

انہوں نے اپنے عہد کے آغاز میں کوئی بڑے یا فوری اقدامات کرنے کے بجائے خاموشی سے سننے اور مرحلہ وار تبدیلیاں لانے کو ترجیح دی، جبکہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

ایران جنگ پر سخت مؤقف

اگرچہ پوپ لیو اپنے پیشرو کے مقابلے میں کم بولنے والے سمجھے جاتے ہیں، مگر ایران میں امریکی فوجی کارروائی نے ان کے اندر ایک مضبوط اور دوٹوک موقف کو نمایاں کیا ہے۔ انہوں نے غیر معمولی طور پر ٹرمپ کا نام لے کر تنقید کی—جو پوپ کی روایت میں کم ہی دیکھا جاتا ہے۔

ان کا یہ کہنا کہ “خدا ان لوگوں کی دعائیں نہیں سنتا جو جنگ کرتے ہیں”، بظاہر امریکی قیادت کی جانب سے جنگ کو مذہبی رنگ دینے کی کوششوں پر تنقید تھی۔

امن کا پیغام اور افریقہ کا دورہ

افریقہ میں قیام کے دوران بھی پوپ لیو نے امن کا پیغام جاری رکھا۔ کیمرون کے شہر بامیندا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا چند طاقتور افراد کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے، لیکن اصل طاقت ان لوگوں میں ہے جو ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مذہب اور خدا کے نام کو ذاتی یا سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا ایک خطرناک عمل ہے۔

ٹرمپ سے پرانی کشیدگی

پوپ اور ٹرمپ کے درمیان تناؤ کوئی نیا نہیں۔ گزشتہ برس بھی ٹرمپ نے اپنی ایک مصنوعی تصویر جاری کی تھی جس میں وہ خود کو پوپ کے روپ میں دکھا رہے تھے، جس پر تنقید ہوئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کیتھولک چرچ کی تاریخ کے پہلے امریکی پوپ ہونے کے باوجود، اب تک ٹرمپ اور پوپ لیو کے درمیان کوئی براہِ راست ملاقات سامنے نہیں آئی۔

امریکہ کا دورہ مؤخر

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پوپ کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی اور انہیں امریکہ آنے کی دعوت دی، تاہم ویٹیکن نے اعلان کیا ہے کہ پوپ 2026 میں امریکہ کا دورہ نہیں کریں گے۔ اس کے بجائے وہ امریکی یومِ آزادی کے موقع پر اٹلی کے جزیرے لیمپیڈوسا جائیں گے، جو تارکین وطن کی آمد کا اہم مرکز ہے۔

“جسٹ وار” پر نئی بحث

دوسری جانب جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ پوپ کو مذہبی معاملات پر بات کرتے وقت احتیاط کرنی چاہیے اور ایران جنگ کے حوالے سے “جسٹ وار” نظریے کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

ویٹیکن کے مؤقف کے مطابق جدید دور، خصوصاً ایٹمی دور میں، کسی بھی جنگ کو “منصفانہ” قرار دینا مزید مشکل ہو گیا ہے۔


مزید خبریں

مقبول ترین خبریں