ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ یا دھمکیوں کے تحت کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ مذاکرات کو برابری کی سطح پر نہیں بلکہ دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے بیان میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن مذاکرات کی میز کو “ہتھیار ڈالنے” کے مترادف بنانا چاہتا ہے۔
ادھر پس پردہ سفارتی ذرائع بھی اس تناؤ کی تصدیق کر رہے ہیں۔ ایک ایرانی عہدیدار نے غیر رسمی گفتگو میں انکشاف کیا کہ ٹرمپ کا سخت اور جارحانہ لہجہ، ساتھ ہی ایران پر جاری اقتصادی دباؤ، مذاکراتی عمل کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک کسی حد تک معاہدے کے بنیادی نکات پر متفق ہو چکے ہیں، تاہم موجودہ ماحول پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے بیانات میں سختی برقرار رکھی ہے۔ “ٹروتھ سوشل” پر جاری پیغام میں انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران کی بندرگاہوں پر امریکی دباؤ اسی وقت ختم ہوگا جب کوئی واضح معاہدہ سامنے آئے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دباؤ کے باعث ایران کو روزانہ بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔
مزید برآں، مختلف امریکی میڈیا اداروں کو دیے گئے انٹرویوز میں ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی کی مدت ختم ہونے تک امریکی شرائط پوری نہ ہوئیں تو سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔
اسی دوران سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ ایک نیا وفد جلد پاکستان بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا اگلا مرحلہ شروع کیا جا سکے۔ یہ پیش رفت ایک نازک وقت پر سامنے آئی ہے، جب جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے۔
پاکستان اس معاملے میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کو امید ہے کہ وہ تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ بعض اطلاعات کے مطابق ایران بھی مخصوص شرائط کے تحت بات چیت پر غور کر رہا ہے، خاص طور پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے تناظر میں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی تھی، کیونکہ دونوں فریقین کے درمیان حساس معاملات پر اختلافات برقرار رہے۔
پس منظر میں یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ امریکہ 2018 میں ایران کے ساتھ ہونے والے عالمی جوہری معاہدے سے الگ ہو چکا ہے، جس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار ہیں۔ 2015 میں طے پانے والے اس معاہدے میں کئی عالمی طاقتیں شامل تھیں، تاہم اس کے خاتمے نے خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا دیا۔