مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ملک ایران کی جانب سے درپیش ایک بڑے سکیورٹی خطرے کو ناکام بنانے میں کامیاب رہا ہے۔
منگل کو اپنے خطاب میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایران اسرائیل کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے تباہ کن منصوبہ بندی کر رہا تھا، تاہم اسرائیل نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے اس خطرے کو ختم کر دیا۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون کو دیا اور کہا کہ دونوں ممالک نے مل کر ایران کی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں محدود کیا۔
اسرائیلی وزیرِاعظم نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں کی جانے والی فوجی کارروائیوں نے ایران کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے جون 2025 کی 12 روزہ جنگ اور فروری 2026 میں شروع ہونے والی موجودہ عسکری مہم کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ اقدامات ایران کے لیے تاریخ کا بڑا دھچکا ثابت ہوئے ہیں۔
تاہم نیتن یاہو نے عندیہ دیا کہ کارروائیاں ابھی ختم نہیں ہوئیں اور اسرائیل اپنی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات بھی کر سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ ایک ایرانی فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب سے کسی بھی نئی جارحیت کی کوشش کی گئی تو اس کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
یہ تمام بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل اپنی کارروائیوں کو دفاعی حکمتِ عملی قرار دے رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) اس سے قبل کئی بار واضح کر چکی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے عسکری استعمال کے شواہد نہیں ملے