امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں ایک بار پھر نازک موڑ پر پہنچ گئی ہیں۔ اگرچہ جنگ بندی کسی حد تک برقرار ہے، تاہم تقریباً تین ہفتوں سے جاری اس عارضی امن کو مستقل معاہدے میں بدلنے کی کوششیں تعطل کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔
گزشتہ ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کی امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر کا دورہ منسوخ کر دیا۔ دونوں ممالک اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے معاملات پر۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روس کے دورے کے دوران مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ امریکی مطالبات حد سے زیادہ تھے، جس کے باعث پیش رفت کے باوجود بات چیت اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکی۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال مکمل ناکامی نہیں بلکہ سفارتی عمل میں سست روی کی عکاس ہے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے مذاکرات اکثر تعطل، پسپائی اور پس پردہ رابطوں کے مراحل سے گزرتے ہیں۔
مذاکرات کی موجودہ صورتحال
صدر ٹرمپ نے فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی پیشکش ناکافی ہونے کے باعث وفد کا دورہ منسوخ کیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ اگر ایران مذاکرات چاہتا ہے تو وہ براہ راست رابطہ کر سکتا ہے، لیکن شرط یہی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔
دوسری جانب ایران پہلے ہی براہ راست مذاکرات سے ہچکچاہٹ ظاہر کر چکا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے اور بامعنی مذاکرات میں رکاوٹ ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک گفتگو میں واضح کیا کہ ایران دھمکیوں یا دباؤ کے تحت کسی بھی “مسلط مذاکرات” کا حصہ نہیں بنے گا۔
مارچ کے آغاز سے ایران نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو محدود کر رکھا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے۔ اس کے جواب میں امریکہ نے اپریل میں جنگ بندی کے بعد ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کر دی، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی اور قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
پس پردہ سفارتکاری جاری
براہ راست مذاکرات میں تعطل کے باوجود سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو تحریری پیغامات بھیجے ہیں جن میں اپنے مؤقف اور “ریڈ لائنز” واضح کی گئی ہیں۔
اسی دوران عراقچی نے پاکستان، عمان اور روس کے دورے کرتے ہوئے علاقائی سفارتکاری کو تیز کر دیا ہے۔
کیا سفارتکاری ناکام ہو چکی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور گہرے ہیں، تاہم جنگ بندی کا برقرار رہنا اس بات کا اشارہ ہے کہ کوئی بھی فریق مکمل جنگ کی طرف واپس نہیں جانا چاہتا۔
ماہرہ ایما شورٹس کے مطابق اگرچہ تعطل موجود ہے، مگر پیش رفت کی گنجائش باقی ہے کیونکہ اہم سفارتی معاہدے برسوں میں طے پاتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قیادت کے غیر متوقع فیصلے کسی بھی وقت صورتحال بدل سکتے ہیں۔
اسی طرح تجزیہ کار روب گیسٹ پن فولڈ کے مطابق موجودہ صورتحال “نہ جنگ، نہ امن” کی کیفیت کی عکاس ہے، جہاں دونوں فریق خود کو برتر سمجھتے ہیں مگر تصادم سے گریز کر رہے ہیں۔
تاریخی تناظر
ماضی میں بھی ایسے مذاکرات طویل اور پیچیدہ رہے ہیں۔ 2015 کا ایران جوہری معاہدہ (JCPOA) تقریباً دو سال کی خفیہ اور اعلانیہ بات چیت کے بعد ممکن ہوا تھا، جسے بعد میں ٹرمپ نے 2018 میں ختم کر دیا۔
اسی طرح پیرس امن معاہدہ 1973 اور روس یوکرین مذاکرات 2022 جیسے واقعات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جنگوں کے خاتمے کے لیے سفارتکاری اکثر اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے اور فوری نتائج کم ہی سامنے آتے ہیں۔
آگے کیا ممکن ہے؟
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال ایک طویل المدتی مگر نازک جنگ بندی میں تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں کشیدگی برقرار رہے گی مگر کھلی جنگ سے گریز کیا جائے گا۔ یہ تعطل اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک کوئی ایک فریق دوسرے کو سمجھوتے پر آمادہ نہ کر لے۔