امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ مستقل معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ جنگ اب ایک لمبی اور تھکا دینے والی لڑائی بنتی جا رہی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشت پر پڑ رہے ہیں۔
دو ماہ پہلے امریکا اور اسرائیل نے ایران پر اچانک حملہ کیا تھا، لیکن اس کے بعد سے صورتحال اب تک رکی ہوئی ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز پر جاری رکاوٹوں نے دنیا بھر میں تیل اور توانائی کی سپلائی کو متاثر کیا ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل بھی واضح نہیں۔
مذاکرات رکے ہوئے، کشیدگی برقرار
وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی کے مطابق امریکا ایران سے بات چیت کر رہا ہے، لیکن وہ جلد بازی میں کوئی غلط معاہدہ نہیں کرے گا۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے ایران کی نئی پیشکش پر غور کیا۔
اگرچہ 8 اپریل سے جنگ بندی ہے، لیکن اب بھی فوجی کارروائی کا امکان ختم نہیں ہوا۔ قطر کی وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال ایک “منجمد تنازع” بن سکتی ہے، جہاں آبنائے ہرمز کو دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کی بھاری قیمت
ماہرین کہتے ہیں کہ نہ مکمل جنگ اور نہ ہی معاہدہ—یہ حالت دونوں ممالک کے لیے مہنگی ہے۔ ایک امریکی ادارے کے مطابق صرف پہلے مہینے میں امریکا کو 20 سے 25 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
ادھر ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی اور ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز پر پابندیوں کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ امریکا میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 4.18 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جو چار سال کی بلند ترین سطح ہے۔
ایران کے حملوں سے خطے میں امریکی فوجی سازوسامان کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ خلیجی ممالک میں اہم صنعتی اور توانائی کے مراکز متاثر ہوئے ہیں۔
جنگ لمبی کیوں ہو رہی ہے؟
شروع میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، لیکن اب یہ لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق صرف فضائی حملوں سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ کشیدگی بڑھتی ہے۔
تحقیقی اداروں کے مطابق اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ جنگ خود بخود لمبی ہو رہی ہے یا اسے جان بوجھ کر طول دیا جا رہا ہے۔
ایران کی حکمت عملی
ایران جانتا ہے کہ امریکا فوجی طور پر مضبوط ہے، اس لیے وہ آبنائے ہرمز کو دباؤ کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ امریکا کو مذاکرات پر مجبور کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے ایک ادارے کے مطابق اس جنگ سے ایران میں روزگار، تجارت اور خوراک کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ چونکہ ایران زیادہ تر اناج اسی راستے سے منگواتا ہے، اس لیے سپلائی میں رکاوٹ سے خوراک کی کمی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
نئی جنگی حکمت عملی
امریکا اب کم شدت والے حملوں اور ڈرونز کے زیادہ استعمال پر غور کر رہا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ طریقہ سستا ہوتا ہے، لیکن اس سے نقصان زیادہ ہو سکتا ہے۔
یہ طریقہ کچھ حد تک اسرائیل کی حکمت عملی جیسا ہے، جس میں وقتاً فوقتاً حملے کیے جاتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ایران جیسے ملک کے خلاف یہ طریقہ خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ وہ بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
غیر یقینی صورتحال
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جیسے اہم ملک کو صرف طاقت کے ذریعے قابو نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک کوئی مکمل معاہدہ نہیں ہوتا، یہ تنازع نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے مسئلہ بنا رہے گا۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نہ مکمل جنگ ہے اور نہ ہی امن—بلکہ ایک لمبی، مہنگی اور غیر یقینی کشیدگی ہے، جو کسی بھی وقت بڑھ سکتی ہے۔