ایران نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی دباؤ میں آ کر نہیں بلکہ صرف ایک “منصفانہ اور جامع معاہدے” کی بنیاد پر ہی کسی بھی پیش رفت کو قبول کرے گا۔ یہ مؤقف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے اہم ملاقات کے دوران اختیار کیا۔
ملاقات کے دوران عراقچی نے چین کو ایران کا قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید گہرا ہوگا۔ انہوں نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ اس کی جانب سے مسلط کردہ جنگ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، اور ایران مذاکرات کے ہر مرحلے میں اپنے قومی مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا۔
دوسری طرف چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے خطے میں بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست بات چیت کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ خطہ ایک نہایت حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔
وانگ یی نے فوری اور مکمل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جاری لڑائی نہ صرف خطے بلکہ عالمی استحکام کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ انہوں نے امریکا اور ایران دونوں پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولا جائے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو اور بین الاقوامی برادری کے “محفوظ آمد و رفت” کے مطالبات پورے کیے جا سکیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا مکمل حق حاصل ہے، جسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔
یہ اہم ملاقات بیجنگ میں ہوئی، جس کی تصدیق چینی خبر ایجنسی شنہوا نے کی، تاہم تفصیلات محدود رکھی گئیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق عراقچی کا یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور خطے کی بدلتی صورتحال پر مشاورت کے لیے کیا گیا، اور یہ حالیہ کشیدگی کے آغاز کے بعد ان کا پہلا دورہ چین ہے۔
چین، جو ایران کا ایک بڑا توانائی خریدار ہے، امریکی پابندیوں کے باوجود تہران سے تیل حاصل کرتا رہا ہے، جس سے واشنگٹن کی پالیسیوں کو چیلنج درپیش ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران پر اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کی جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال ایران کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
اگرچہ چین عمومی طور پر اس تنازع میں متوازن مؤقف اپناتا رہا ہے، تاہم وہ ایران کی خودمختاری پر حملوں کی مخالفت کرتا ہے اور پس پردہ ثالثی میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائیاں شروع کیں، جس کے بعد 7 اپریل کو دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ بعد ازاں 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔
21 اپریل کو جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا گیا، تاہم ایرانی مؤقف برقرار ہے کہ وہ کسی یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گا اور اپنے مفادات کے مطابق ہی آئندہ لائحہ عمل طے کرے گا۔
بیجنگ میں ہونے والی یہ ملاقات اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران اور چین سفارتی سطح پر ہم آہنگی بڑھا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکا کے ساتھ کشیدگی برقرار ہے۔ مذاکرات کی بات ضرور ہو رہی ہے، مگر اعتماد کی کمی اب بھی کسی بڑے معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔