جنگ کے دوران خفیہ تعاون سامنے آ گیا: اسرائیل نے یو اے ای کی ڈھال سنبھال لی

فہرستِ مضامین

اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کے دفاع کے لیے آئرن ڈوم میزائل سسٹم اور اس کو چلانے والا عملہ یو اے ای بھیجا تھا۔

تل ابیب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مائیک ہکابی نے کہا کہ اسرائیل اور خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات، کے درمیان دفاعی تعاون تیزی سے مضبوط ہورہا ہے۔ ان کے مطابق معاہدہ ابراہیمی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ اب سکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں بھی گہرا اشتراک سامنے آرہا ہے۔

امریکی سفیر نے کہا، “متحدہ عرب امارات نے ثابت کیا کہ خطے میں نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ کشیدگی کے دوران یو اے ای کو آئرن ڈوم بیٹریاں اور تربیت یافتہ عملہ فراہم کیا تاکہ ممکنہ میزائل حملوں سے دفاع یقینی بنایا جاسکے۔”

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ اگرچہ فائر بندی برقرار ہے، مگر آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول اور امریکا ایران مذاکرات میں تعطل خطے میں دوبارہ کشیدگی کے خدشات کو بڑھا رہا ہے۔

مائیک ہکابی نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ مستقبل قریب میں مزید عرب ممالک معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ وہ تاریخی معاہدہ تھا جس کے تحت 2020 میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر عرب ریاستوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر کئی عرب ممالک اب بھی شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ غزہ جنگ، لبنان اور شام میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی مداخلت نے خطے میں غصے اور بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

اپنی گفتگو میں امریکی سفیر نے کہا کہ خلیجی ممالک اب یہ محسوس کررہے ہیں کہ ان کے لیے اصل خطرہ کون ہے۔ ان کے بقول، “اسرائیل نے خلیجی ممالک کی مدد کی، جبکہ ایران کی جانب سے حملوں کا خطرہ موجود رہا۔ اسرائیل آپ کی زمین یا وسائل پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا۔”

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں