ایلون مسک کو بڑا قانونی دھچکا، اوپن اے آئی کے خلاف 150 ارب ڈالر کا مقدمہ مسترد

فہرستِ مضامین

امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ میں پیر کی صبح ٹیکنالوجی دنیا کے سب سے زیادہ زیرِ بحث قانونی تنازعات میں سے ایک کا فیصلہ سنا دیا گیا، جہاں ارب پتی کاروباری شخصیت Elon Musk اور Sam Altman کے درمیان جاری تنازع میں عدالت نے اوپن اے آئی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

نو رکنی جیوری نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ ایلون مسک نے مقدمہ دائر کرنے میں بہت زیادہ تاخیر کی، اس لیے ان کے دعوے قانونی مدت ختم ہونے کے بعد سامنے آئے۔

ایلون مسک، جو 2015 میں OpenAI کے بانیوں میں شامل تھے، نے کمپنی، سیم آلٹمین اور صدر Greg Brockman کے خلاف 150 ارب ڈالر کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اوپن اے آئی کو انسانیت کی خدمت کے لیے غیر منافع بخش ادارے کے طور پر بنایا گیا تھا، مگر بعد میں اسے منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا گیا تاکہ چند افراد مالی فائدہ حاصل کر سکیں۔

تاہم عدالت نے اس بنیادی سوال پر کوئی حتمی رائے نہیں دی کہ آیا اوپن اے آئی نے واقعی اپنے اصل مشن سے انحراف کیا یا نہیں۔ مقدمہ زیادہ تر ایک قانونی نکتے تک محدود ہو گیا، یعنی آیا مسک نے مقررہ قانونی مدت کے اندر مقدمہ دائر کیا تھا یا نہیں۔

دو گھنٹے سے بھی کم غور و فکر کے بعد جیوری نے فیصلہ دیا کہ مسک کافی عرصہ پہلے جان چکے تھے کہ اوپن اے آئی تجارتی ماڈل کی طرف جا رہی ہے، اس لیے انہیں بہت پہلے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ امریکی جج Yvonne Gonzalez Rogers نے جیوری کا فیصلہ قبول کرتے ہوئے مقدمہ خارج کر دیا۔

یہ فیصلہ اوپن اے آئی کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کمپنی اپنی تجارتی شراکت داریوں کو وسعت دے رہی ہے اور Microsoft کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اوپن اے آئی مستقبل میں سلیکون ویلی کی تاریخ کی سب سے بڑی عوامی شیئر پیشکشوں میں سے ایک کی طرف بھی بڑھ سکتی ہے۔

دوسری جانب ایلون مسک نے فیصلے کے فوراً بعد اپنے سوشل پلیٹ فارم X پر شدید ردِعمل دیا۔ انہوں نے الزام دہرایا کہ سیم آلٹمین اور گریگ بروک مین نے ایک فلاحی ادارے کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔

مسک نے اعلان کیا ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے، جس سے واضح ہے کہ سلیکون ویلی کی دو طاقتور شخصیات کے درمیان یہ تنازع جلد ختم ہونے والا نہیں۔

مسک اور آلٹمین کے درمیان اختلافات کیسے شروع ہوئے؟

ایلون مسک اور سیم آلٹمین نے 2015 میں گریگ بروک مین اور دیگر محققین کے ساتھ مل کر اوپن اے آئی کی بنیاد رکھی تھی۔ اس وقت مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات اور سماجی اثرات پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی تھی۔

بانیوں کا خیال تھا کہ ایک غیر منافع بخش ادارہ محفوظ اور انسان دوست AI ٹیکنالوجی تیار کر سکے گا، جبکہ بڑی ٹیک کمپنیوں جیسے Google کا مقابلہ بھی کیا جا سکے گا۔

ایلون مسک کے مطابق انہوں نے ابتدائی برسوں میں تقریباً 38 ملین ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی، لیکن بعد میں بانیوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ 2018 میں انہوں نے اوپن اے آئی کے بورڈ سے استعفیٰ دے دیا، جبکہ اس دوران ان کی کمپنی Tesla بھی مصنوعی ذہانت پر زیادہ توجہ دینے لگی تھی۔

اختلافات اس وقت مزید بڑھ گئے جب اوپن اے آئی نے منافع بخش ذیلی کمپنی قائم کی اور مائیکروسافٹ نے اس میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اسی شراکت داری نے بعد میں ChatGPT کو عالمی AI انقلاب کی نمایاں ترین مصنوعات میں شامل کر دیا۔

بعد ازاں ایلون مسک نے 2023 میں اپنی الگ AI کمپنی xAI قائم کی، جس نے Grok چیٹ بوٹ متعارف کرایا۔ اسی کے بعد انہوں نے اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔

مقدمہ کیوں ناکام ہوا؟

عدالتی کارروائی کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ایلون مسک کو کب معلوم ہوا کہ اوپن اے آئی منافع بخش ماڈل کی طرف جا رہی ہے۔

مسک کا مؤقف تھا کہ انہیں صورتحال کی سنگینی کا مکمل احساس 2023 میں ہوا، خاص طور پر جب مائیکروسافٹ نے اوپن اے آئی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی۔

لیکن اوپن اے آئی کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ کمپنی کے تجارتی ڈھانچے اور بیرونی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر کئی برس پہلے سے بات چیت جاری تھی۔ عدالت میں ایسے شواہد بھی پیش کیے گئے جن سے معلوم ہوا کہ 2017 سے ہی منافع بخش ماڈل پر غور ہو رہا تھا، جبکہ 2018 میں سیم آلٹمین نے خود مسک کو اربوں ڈالر کی فنڈنگ سے متعلق دستاویزات بھی بھیجی تھیں۔

جیوری نے انہی شواہد کی بنیاد پر فیصلہ دیا کہ مسک اگر چاہتے تو بہت پہلے مقدمہ دائر کر سکتے تھے، اس لیے ان کے دعوے قانونی مدت ختم ہونے کے بعد سامنے آئے۔

مقدمے نے کون سے سوالات کھلے چھوڑ دیے؟

اگرچہ فیصلہ اوپن اے آئی کے حق میں آیا، مگر عدالت نے ان بڑے سوالات پر کوئی حتمی رائے نہیں دی جن پر پوری دنیا میں بحث جاری ہے۔

ان سوالات میں شامل ہے کہ مصنوعی ذہانت کو کس طرح ریگولیٹ کیا جائے، اس سے حاصل ہونے والا معاشی فائدہ کس کے حصے میں آئے، اور کیا بڑی AI کمپنیاں اربوں ڈالر کمانے کے باوجود واقعی عوامی مفاد میں کام کر سکتی ہیں؟

مقدمے کے دوران AI ٹریننگ میں استعمال ہونے والے ڈیٹا، شفافیت، رضامندی اور انسانی محنت سے متعلق خدشات بھی زیرِ بحث آئے، مگر قانونی تکنیکی نکات کی وجہ سے ان معاملات پر تفصیلی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عدالتی جنگ ختم ہونے کے باوجود مصنوعی ذہانت کے مستقبل، اس کے اخلاقی استعمال اور عالمی ضابطہ بندی سے متعلق بحث ابھی بہت طویل عرصے تک جاری رہے گی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں