بالی ووڈ کے معروف اداکار رنویر سنگھ کے مداح اُس وقت حیرت اور صدمے میں مبتلا ہو گئے جب بھارت کی ایک بڑی فلمی یونین نے اپنے اراکین کو ہدایت جاری کی کہ وہ مبینہ طور پر فلم ڈان 3 سے اچانک علیحدگی کے بعد اداکار کے ساتھ کام نہ کریں۔
فلمی کارکنوں کی سب سے بڑی تنظیم فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنے ایمپلائز (ایف ڈبلیو آئی سی ای) کے مطابق پروڈیوسرز نے پہلے ہی تقریباً 450 ملین روپے (تقریباً 4.7 ملین ڈالر) کی خطیر رقم پری پروڈکشن پر خرچ کر دی تھی جب رنویر سنگھ نے مبینہ طور پر منصوبے سے دستبرداری اختیار کی۔
یونین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اداکار سے بار بار مؤقف واضح کرنے کی درخواست کی، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
دوسری جانب رنویر سنگھ کی ٹیم نے یونین کے اختیارات پر سوال اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کیا ایف ڈبلیو آئی سی ای کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی اداکار کو پیش ہونے پر مجبور کرے۔
یونین کا سخت مؤقف
ایف ڈبلیو آئی سی ای کے صدر بی این تیواری نے کہا کہ جب تک رنویر سنگھ یونین کے نمائندوں سے ملاقات نہیں کرتے، ان کے خلاف “نان کوآپریشن ڈائریکٹو” جاری رہے گا۔
ان کے مطابق، “ہم انڈسٹری کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کوئی بھی سپر اسٹار قواعد سے بڑا نہیں ہو سکتا۔”
یہ باضابطہ پابندی تو نہیں، مگر اس کے باوجود یہ معاملہ شدید توجہ حاصل کر رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ڈان فرنچائز بھارتی سنیما کی سب سے مقبول ایکشن سیریز میں شمار ہوتی ہے۔
یہ سلسلہ پہلی بار 1978 میں امیتابھ بچن کی اداکاری سے مشہور ہوا، جس میں ایک پراسرار اور طاقتور مجرم کی کہانی دکھائی گئی۔ بعد ازاں اسے ہدایتکار فرحان اختر نے دوبارہ پیش کیا جس میں مرکزی کردار شاہ رخ خان نے ادا کیا۔
ڈان 3 کا اعلان 2023 میں کیا گیا تھا جس میں رنویر سنگھ کو نئے مرکزی کردار کے طور پر شامل کیا جانا تھا۔
تنازع کیسے شروع ہوا؟
یونین عہدیدار اشوک پانڈت کے مطابق یہ معاملہ اُس وقت شروع ہوا جب فلم کے ہدایتکار نے ایف ڈبلیو آئی سی ای میں رنویر سنگھ کے خلاف شکایت درج کروائی۔
الزام ہے کہ اداکار نے شوٹنگ شروع ہونے سے تقریباً تین ہفتے قبل فلم چھوڑ دی، جبکہ پروڈکشن ٹیم پہلے ہی بھاری سرمایہ کاری اور بیرون ملک شیڈولز مکمل کر چکی تھی۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
آن لائن ردعمل تقسیم نظر آتا ہے۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ رنویر سنگھ کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیونکہ یہ پہلا موقع نہیں کہ کوئی اداکار فلم چھوڑے۔
جبکہ دیگر صارفین پروڈیوسرز کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بڑے بجٹ کی فلموں میں اچانک علیحدگی سے بھاری نقصان ہوتا ہے، اس لیے اداکار کو “غیر پیشہ ورانہ رویے” کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔
رنویر سنگھ کا پس منظر
رنویر سنگھ بھارت کے بڑے ستاروں میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے پدماوت اور گلی بوائے جیسی کامیاب فلموں میں کام کیا ہے۔ حال ہی میں وہ دو حصوں پر مشتمل اسپائی تھرلر دھورندھر میں نظر آئے، جو باکس آفس پر بڑی کامیابی ثابت ہوئی۔
اس سے پہلے 2025 میں وہ اُس وقت تنقید کی زد میں آئے جب انہوں نے فلمی فیسٹیول میں کنڑ فلم کنتارا کے ایک مشہور منظر کی نقل کی، جسے ثقافتی طور پر غیر مناسب قرار دیا گیا تھا۔
انڈسٹری میں روایت
ایف ڈبلیو آئی سی ای اس سے پہلے بھی مختلف مواقع پر فنکاروں کے خلاف “نان کوآپریشن” اقدامات کر چکی ہے، جن میں بعض اوقات بین الاقوامی یا علاقائی تنازعات کے دوران پابندیاں بھی شامل رہی ہیں۔ 2025 میں یونین نے اداکار و گلوکار دلجیت دوسانجھ کے خلاف بھی ایسا ہی مؤقف اختیار کیا تھا جب وہ پاکستانی اداکارہ حانیہ عامر کے ساتھ ایک پنجابی کامیڈی میں نظر آئے تھے۔
اس وقت یہ تنازع بھارتی فلم انڈسٹری میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے کہ بڑے اسٹارز، پروڈکشن کمپنیاں اور یونینز کے درمیان طاقت کا توازن کس سمت جا رہا ہے۔