این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی برقرار رکھنے پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں مفاہمت

فہرستِ مضامین

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ملک میں مالی وسائل کی تقسیم اور وفاقی مالی مشکلات سے نمٹنے کے حوالے سے ایک اہم سیاسی مفاہمت طے پا گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں جماعتیں اس بات پر متفق ہو گئی ہیں کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے موجودہ ڈھانچے میں کسی قسم کی بنیادی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ مذاکرات میں این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے اور بی آئی ایس پی کے نظام کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ وفاق کو درپیش مالی دباؤ کم کرنے کے لیے متبادل طریقہ کار پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ انتظام کے تحت صوبے مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے 10 کھرب روپے سے زائد وسائل وفاق کو فراہم کر سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی طریقہ کار اور تفصیلات تکنیکی کمیٹیوں کے سپرد کر دی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاق کو بڑھتے ہوئے مالی خسارے اور محدود مالی گنجائش جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ این ایف سی ایوارڈ جیسے حساس سیاسی معاملے کو دوبارہ کھولنے کے بجائے ایک ایسا درمیانی راستہ اختیار کیا جائے جس سے مرکز کی مالی مشکلات بھی کم ہوں اور صوبوں کے حقوق سے متعلق تنازعات بھی پیدا نہ ہوں۔

سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاری اور پیشی میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ بھی پیپلز پارٹی کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی کے تحفظ پر زور دینا تھا۔ پارٹی قیادت کا مؤقف تھا کہ یہ دونوں معاملات سیاسی اور عوامی سطح پر انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے ان میں کسی قسم کی کمی یا بنیادی ردوبدل قبول نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری جانب بعض معاشی اور پالیسی ساز حلقوں میں طویل عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو ملنے والے این ایف سی حصے کے باعث وفاق کے مالی وسائل محدود ہو گئے ہیں۔ ان حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آتا رہا ہے کہ بعض صوبوں کو ان کی اخراجاتی صلاحیت سے زیادہ وسائل مل رہے ہیں، جس کی وجہ سے مرکز مالی دباؤ کا شکار ہے۔ اسی تناظر میں نئے این ایف سی ایوارڈ کی تجاویز بھی زیر غور رہی ہیں، تاہم خصوصاً سندھ کی جانب سے ان تجاویز کی سخت مخالفت کی جاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق مرکز کی مالی مشکلات کے باعث بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو صوبوں کے حوالے کرنے یا اس کے دائرہ کار میں تبدیلی کی مختلف تجاویز بھی زیر غور آئیں، لیکن پیپلز پارٹی نے اس کی بھرپور مخالفت کی۔ پارٹی کا مؤقف تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا پروگرام ہے اور اسے ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے۔

اطلاعات کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والی حالیہ مفاہمت کے بعد اب مالی ایڈجسٹمنٹ براہِ راست این ایف سی حصے میں کمی کے بجائے بالواسطہ طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔ ان میں ترقیاتی اخراجات کی نئی ترجیحات، بعض وفاقی منصوبوں کی ذمہ داریوں میں ردوبدل، یا وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی بوجھ کی نئی تقسیم جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کو واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی پارٹی کے لیے سیاسی طور پر انتہائی حساس معاملات ہیں، اس لیے مطلوبہ مالی توازن دیگر ذرائع سے پیدا کیا جائے۔ اسی وجہ سے بی آئی ایس پی کو نہ صرف برقرار رکھنے بلکہ اس کی فنڈنگ اور دائرہ کار کے تحفظ پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا مؤقف ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں صوبوں کو بھی قومی مالی استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق ن لیگ پیپلز پارٹی کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب رہی ہے کہ وفاقی حکومت پر مالی دباؤ کم کرنے اور مرکز و صوبوں کے درمیان بہتر تعاون کے لیے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ مفاہمت نہ صرف آئندہ بجٹ کی راہ ہموار کر سکتی ہے بلکہ اتحادی حکومت کے استحکام اور وفاق و صوبوں کے درمیان مالی ہم آہنگی کے لیے بھی اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں