پنجاب کی ترقی میں بیرونی امداد کا کتنا کردار؟

فہرستِ مضامین

لاہور: پنجاب حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) 2026-27 کے مطابق صوبے میں پانی، سیوریج، تعلیم، زراعت اور شہری ترقی کے متعدد بڑے منصوبے غیر ملکی امداد اور قرضوں کی مدد سے جاری ہیں، جن کی مجموعی مالیت سیکڑوں ارب روپے تک پہنچتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق صرف لوکل گورنمنٹ کے شعبے میں غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کی مالیت 227 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد شہری علاقوں میں پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور بنیادی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا ہے۔

فیصل آباد میں پانی کی فراہمی کے لیے “ایکسٹینشن آف واٹر ریسورسز فیصل آباد سٹی فیز ٹو” منصوبہ 33 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا ہے، جسے فرانسیسی معاونت حاصل ہے۔ اسی شہر میں ایسٹرن ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر کے لیے 56 ارب روپے سے زیادہ لاگت کا منصوبہ ڈنمارک کے ترقیاتی ادارے ڈینیڈا (DANIDA) کے تعاون سے جاری ہے۔

تعلیم کے شعبے میں بھی بیرونی معاونت کا کردار نمایاں ہے۔ GRADES پروگرام کے تحت معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے 41 ارب روپے سے زائد مالیت کا منصوبہ شامل کیا گیا ہے، جبکہ تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے سسٹم ٹرانسفارمیشن گرانٹ کی مد میں 10 ارب روپے سے زیادہ مختص کیے گئے ہیں۔

زراعت کے شعبے میں پنجاب ریزیلینٹ اینڈ انکلیوسیو ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن (PRIAT) منصوبہ 63 ارب روپے سے زائد لاگت کے ساتھ جاری ہے، جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں زرعی شعبے کو زیادہ پائیدار بنانا ہے۔

ٹیکنیکل تعلیم کے میدان میں جرمن ترقیاتی بینک KfW کے تعاون سے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کے لیے خصوصی تربیتی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، تاکہ نوجوانوں کو جدید فنی مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب میں بنیادی ڈھانچے اور سماجی شعبوں کے کئی بڑے منصوبے بیرونی فنڈنگ کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔ تاہم یہ صورتحال اس سوال کو بھی جنم دیتی ہے کہ صوبہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے کس حد تک غیر ملکی قرضوں اور امداد پر انحصار کر رہا ہے۔

ایک طرف حکومت معاشی خود انحصاری کی بات کرتی ہے، تو دوسری طرف پانی، تعلیم، زراعت، شہری ترقی اور فنی تعلیم جیسے اہم شعبوں میں اربوں روپے کے منصوبے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور غیر ملکی ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے چلائے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق غیر ملکی معاونت ترقیاتی منصوبوں کے لیے اہم ذریعہ ضرور ہے، تاہم طویل المدت بنیادوں پر مقامی وسائل میں اضافہ اور مالی خود کفالت بھی اتنی ہی ضروری ہے تاکہ ترقی کا عمل بیرونی فنڈنگ پر مکمل انحصار کا شکار نہ ہو۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں