سندھ میں ترقیاتی منصوبے منجمند ہوں گے لیکن وفاق یہ رقم کہاں خرچ کرنا چاہتا ہے؟

فہرستِ مضامین

تحریر: فہمیدہ ریاض

پاکستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اگر سندھ کے ترقیاتی وسائل محدود ہوتے ہیں تو اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ لیکن سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر وفاق صوبوں سے یہ قربانی کیوں مانگ رہا ہے اور یہ اضافی رقم کہاں خرچ کرنا چاہتا ہے؟
میں ہوں فہمیدہ ریاض اور آپ دیکھ رہے ہیں ڈبلیو ٹی این نیوز۔
ناظرین، وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ ایک ایسا مالی انتظام چاہتی ہے جس کے تحت صوبے اپنے ترقیاتی اخراجات میں کمی کریں یا انہیں موجودہ سطح پر منجمد رکھیں، تاکہ وفاق کو اضافی مالی گنجائش حاصل ہو سکے۔


اس کی ایک بڑی وجہ دفاعی اخراجات میں متوقع اضافہ ہے۔ حکومت آئندہ مالی سال میں تقریباً 3 ہزار ارب روپے دفاع پر خرچ کرنا چاہتی ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث دفاعی ضروریات میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
اس کے علاوہ دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم اور داسو ڈیم جیسے بڑے آبی منصوبوں کے لیے بھی اضافی فنڈز درکار ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے مستقبل میں پانی اور توانائی کے بحران سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
دوسری جانب حکومت تنخواہ دار طبقے کو کچھ ٹیکس ریلیف دینے پر بھی غور کر رہی ہے، جس کے لیے مزید مالی وسائل کی ضرورت ہوگی۔
ابتدائی طور پر یہ تجویز زیر غور تھی کہ قومی مالیاتی کمیشن، یعنی این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ملنے والے حصے میں تبدیلی کی جائے، لیکن اس تجویز پر سیاسی اور آئینی اعتراضات سامنے آئے۔ چنانچہ یہ راستہ ترک کر دیا گیا۔


اب متبادل طور پر وفاق اور صوبے دونوں اپنے ترقیاتی اخراجات میں کمی پر غور کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حجم تقریباً 1.126 کھرب روپے سے کم کر کے ایک کھرب روپے تک لایا جا رہا ہے، جبکہ صوبوں سے بھی اپنے ترقیاتی بجٹ محدود رکھنے کو کہا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا اس انتظام کا حصہ بن سکتے ہیں۔
پنجاب نے آئندہ سال تقریباً 1.45 کھرب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اب اس میں 150 ارب روپے سے زائد کمی متوقع ہے۔
سندھ نے 816 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا تھا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں پہلے ہی کم تھا، تاہم اب اس میں مزید کمی کا امکان ہے۔
خیبرپختونخوا نے 564 ارب روپے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن امکان ہے کہ ترقیاتی اخراجات موجودہ سطح پر ہی منجمد کر دیے جائیں۔


سوال یہ ہے کہ سندھ پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
ترقیاتی بجٹ ہی وہ فنڈز ہوتے ہیں جن سے سڑکیں، پل، اسپتال، اسکول، نکاسی آب کے منصوبے، پانی کی فراہمی کی اسکیمیں اور دیگر عوامی سہولیات مکمل کی جاتی ہیں۔
اگر ترقیاتی اخراجات کم ہوئے تو کئی منصوبوں کی رفتار سست پڑ سکتی ہے، نئی اسکیمیں مؤخر ہو سکتی ہیں اور جاری منصوبوں کی تکمیل میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
تاہم اس تمام صورتحال میں سندھ کے لیے ایک مثبت خبر بھی سامنے آئی ہے۔
وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں سکھر-حیدرآباد موٹروے (ایم-6) کے لیے وفاقی فنڈنگ میں نمایاں اضافے پر اتفاق ہوا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے لیے پہلے تقریباً 20 ارب روپے مختص کیے جا رہے تھے، لیکن اب یہ رقم بڑھا کر تقریباً 70 ارب روپے تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مختصر یہ کہ سندھ این ایف سی کے تحت اپنا آئینی حصہ تو نہیں کھو رہا، لیکن وفاقی مالی ضروریات کے باعث اسے اپنے ترقیاتی اخراجات محدود کرنا پڑ سکتے ہیں، جس کے اثرات صوبے میں جاری اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر پڑ سکتے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں