یلو لائن بی آر ٹی منصوبے میں 8.5 ارب روپے کی پیشگی ادائیگی، دو افسران کے خلاف مقدمہ درج

فہرستِ مضامین

کراچی میں جاری یلو لائن بی آر ٹی منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں دو سرکاری افسران سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

یلو لائن بی آر ٹی منصوبہ قائدآباد کے داؤد چورنگی کو نمائش چورنگی سے ملانے کے لیے بنایا جا رہا ہے، جہاں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے صرف الیکٹرک بسیں چلانے کا منصوبہ ہے۔

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) نے سندھ حکومت کی جانب سے کراچی موبیلیٹی پروجیکٹ (کے ایم پی) کے اُس وقت کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی، سابق ڈائریکٹر پروکیورمنٹ جھمن داس اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ مقدمہ اے سی ای ضلع جنوبی کے انسپکٹر محمد شیر زمان اعوان کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق منصوبے کے ٹھیکیداروں کو 8 ارب 50 کروڑ روپے کی مالی معاونت اور پیشگی ادائیگی فراہم کی گئی، حالانکہ معاہدے میں ایسی کسی ادائیگی یا مالی سہولت کی گنجائش موجود نہیں تھی۔ معاہدے کے تحت ٹھیکیداروں کو اپنی مالی ضروریات کمرشل مارکیٹ سے پوری کرنا تھیں۔

تحقیقات کے مطابق یہ ادائیگی نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی تھی بلکہ اس کے لیے کسی قسم کی بینک گارنٹی بھی حاصل نہیں کی گئی، جس سے سرکاری مفادات کو شدید خطرات لاحق ہوئے اور قومی خزانے کو مالی نقصان پہنچا۔

یہ مقدمہ وزیراعلیٰ سندھ کی انسپیکشن، انکوائریز اینڈ امپلیمنٹیشن ٹیم (CMIE&ITD) کی تحقیقات کی روشنی میں درج کیا گیا، جس نے عالمی بینک کے تعاون سے جاری یلو لائن منصوبے میں مالی بدانتظامی کا جائزہ لیا تھا۔ تحقیقات میں خاص طور پر نیو جام صادق پل، داؤد چورنگی ڈپو ون اور انڈس ہسپتال ڈپو ٹو کے تعمیراتی معاہدوں کا معائنہ کیا گیا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق منصوبے میں سنگین انتظامی کوتاہیاں، مالی بے ضابطگیاں اور حکومتی خزانے کو براہِ راست اور بالواسطہ نقصان پہنچانے کے شواہد سامنے آئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ منصوبے کی مالی نگرانی اس حد تک ناقص رہی کہ اسے مجرمانہ غفلت قرار دیا جا سکتا ہے۔

ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ جھمن داس اور ضمیر عباسی نے مبینہ طور پر ٹھیکیداروں کے ساتھ ملی بھگت کر کے انہیں غیر قانونی مالی فوائد پہنچائے۔ دستاویزات کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں حکومت کو تقریباً ایک ارب 25 کروڑ روپے کے مالیاتی اخراجات برداشت کرنا پڑے، جو ٹھیکیداروں کے لیے غیر معمولی منافع کا سبب بنے۔

مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے علاوہ انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی شق 5(2) بھی شامل کی گئی ہے، جس کے تحت اختیارات کے ناجائز استعمال، دھوکہ دہی، جعل سازی، سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل اور امانت میں خیانت جیسے الزامات کی تحقیقات کی جائیں گی۔

اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے سے وابستہ دیگر افراد کے کردار کا تعین بھی تحقیقات کے دوران کیا جائے گا اور شواہد سامنے آنے پر مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں