وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ماضی میں بعض اہم قوانین کی تیاری اور ترامیم کے دوران انٹیلی جنس اداروں کے نمائندے بھی مشاورتی عمل کا حصہ ہوتے تھے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا، جہاں وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔
ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ وہ حقائق بیان کرکے اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں مختلف سیاسی معاملات پر مذاکرات اور قانون سازی سے متعلق مشاورت سابق اسپیکر اسد قیصر کی رہائش گاہ پر ہوتی تھی، جہاں اس وقت کے آئی ایس آئی حکام کی موجودگی میں متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا جاتا تھا۔
وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ اینٹی منی لانڈرنگ سمیت کئی اہم بلوں پر غور و خوض کے دوران بھی متعلقہ قوانین میں ترامیم اور تکنیکی نکات پر بات چیت کی جاتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ ان ملاقاتوں میں ایسے افراد بھی شریک ہوتے تھے جو سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی جانب سے رابطوں کے لیے مقرر کیے گئے تھے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جن سیاسی قوتوں نے خود ایسے عمل کا حصہ بن کر فیصلے کیے، وہ آج دوسروں پر تنقید کرنے کا اخلاقی جواز نہیں رکھتیں۔ انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے حقائق کو نظر انداز کرکے موجودہ حکومت پر الزامات عائد کرنا مناسب نہیں۔
ان کے بیان کے بعد ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شور شرابا بھی دیکھنے میں آیا، جبکہ بجٹ پر بحث کا سلسلہ جاری رہا۔