پریس گیلری سے ایوان تک: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا آنکھوں دیکھا حال

فہرستِ مضامین

تحریر: شبیر لاشاری

سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ہر سال کی طرح اس بار بھی اجلاس کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی پریس گیلری میں اجلاس سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ پہلے اتنی بھیڑ تھی کہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ وہاں پیر رکھنے کی جگہ نہیں تھی۔ میں بھی پچھلے 13، 14 سال سے سندھ اسمبلی کی کوریج کر رہا ہوں، لیکن ہر بار بجٹ پیش ہونے والے دن یہ سوچتا ہوں کہ عام دنوں میں یہ اتنے صحافی سندھ اسمبلی کی کوریج کے لیے کیوں نہیں آتے، اور اچانک بجٹ والے دن کہاں سے ظاہر ہو جاتے ہیں۔ پھر معلوم ہوا کہ اکثر صحافی صرف بجٹ دستاویز لینے نہیں بلکہ ایک تھیلا لینے آتے ہیں، کیونکہ اس تھیلے میں ایک یو ایس بی اور ایک اچھی بال پین بھی ملتی ہے۔

خیر، آج ہم نے سوچا تھا کہ وزیراعلیٰ اجلاس میں شرکت کے لیے اسی دروازے سے داخل ہوں گے جہاں وہ عموماً آتے ہیں اور چلتے چلتے میڈیا سے مختصر گفتگو بھی کریں گے اور کوئی نہ کوئی خبر یا سرخی بھی دے جائیں گے۔ لیکن آج وزیراعلیٰ اسپیکر چیمبر والے راستے سے میڈیا سے بغیر آمنا سامنا کیے ایوان میں داخل ہو گئے۔

دوسری جانب اجلاس سے قبل اپوزیشن کی عددی طور پر اکثریتی جماعت ایم کیو ایم نے حکمت عملی طے کرنے کے لیے جو اجلاس کیا، اس سے یہ بات سامنے آئی کہ ایم کیو ایم مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول گروپوں کی گروہ بندی کا شکار ہو گئی ہے، اور دونوں نے الگ الگ اجلاس کیے کہ ایوان میں احتجاج کیسے ریکارڈ کرایا جائے۔

اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی صدارت میں جیسے ہی اجلاس شروع ہوا اور دعا ختم ہوئی، اسپیکر نے اعلان کیا کہ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ بجٹ تقریر شروع کریں۔ فوراً ہی ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن اراکین کھڑے ہو گئے اور ایوان میں شور شروع ہو گیا۔

اجلاس شروع ہونے سے پہلے خیال تھا کہ گروہ بندی کا شکار ایم کیو ایم کے ارکان الگ الگ احتجاجی حکمت عملی اپنائیں گے، لیکن احتجاج کے دوران نہ صرف ایم کیو ایم بلکہ پی ٹی آئی کے ارکان بھی ایک آواز بن کر احتجاج میں شامل ہو گئے۔

اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر آپ کو کوئی اعتراض ہے تو پہلے بات کر لیں، وزیراعلیٰ بعد میں اپنی تقریر شروع کریں گے، لیکن ایوان میں اس طرح شور کرنا مناسب عمل نہیں۔

اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے مائیک پر کہا کہ یہاں ون وے ٹریفک چل رہی ہے، جسے ہم نہیں چلنے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سے پہلے پری بجٹ ڈسکشن ہونی چاہیے تھی جو نہیں ہوئی، اور بجٹ میں شہری علاقوں کو مکمل نظرانداز کیا گیا ہے، اس لیے ہم اس بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور بجٹ تقریر کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔

اس پر اسپیکر نے کہا کہ آپ نے ابھی بجٹ سنا ہی نہیں تو آپ کو کیسے معلوم کہ اس میں کیا ہے اور کیا نہیں۔ سمجھانے کے باوجود اپوزیشن خاموش نہ ہوئی اور پلے کارڈز اٹھا کر اسپیکر ڈائس کے سامنے سخت نعرے بازی کی۔ ہنگامہ آرائی کے باعث تقریباً 5 سے 7 منٹ تک ایوان کی کارروائی معطل رہی اور وزیراعلیٰ اپنی تقریر شروع نہ کر سکے، جس کے بعد اپوزیشن اراکین نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر اردو یا سندھی کے بجائے انگریزی میں پیش کی۔ اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد ایوان میں کوئی شور نہ رہا اور وزیراعلیٰ نے بغیر رکاوٹ خطاب کیا۔

اس سے پہلے بھی دیکھا گیا ہے کہ جب پی ٹی آئی ایوان میں اپوزیشن کی بڑی جماعت تھی تو بجٹ تقریر کے دوران پیپلز پارٹی کے ارکان وزیراعلیٰ کی نشست کے سامنے گھیراؤ کر لیتے تھے تاکہ اپوزیشن رکاوٹ نہ ڈال سکے۔ پی ٹی آئی کی حکمت عملی یہ ہوتی تھی کہ ایوان کے باہر کے بجائے اندر زیادہ ہنگامہ کیا جائے۔ لیکن اس کے برعکس آج اپوزیشن نے صرف احتجاج ریکارڈ کرایا اور ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔

نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں وزیراعلیٰ نے کسی بڑے ترقیاتی منصوبے یا نئی نوکریوں کا اعلان نہیں کیا۔ ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کرنے کے بجائے 298 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔ اسی طرح سرکاری ملازمین کو امید تھی کہ سندھ حکومت وفاق سے زیادہ اضافے کا اعلان کرے گی، مگر حکومت نے بھی وفاق کی پیروی کرتے ہوئے تنخواہوں میں صرف 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں