امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی معاہدے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اندرونی سیاسی دباؤ، عوامی بے چینی اور واشنگٹن کی کھلی تنقید کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ لبنان پر اسرائیلی حملوں نے خطے میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔
اگرچہ نیتن یاہو نے اب تک عوامی سطح پر امریکہ-ایران معاہدے کی مخالفت سے گریز کیا ہے، تاہم اسرائیلی سیاسی حلقوں، عوامی رائے اور فوجی کارروائیوں سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل اس معاہدے سے شدید ناراض اور پریشان ہے۔
مبصرین کے مطابق نیتن یاہو ہمیشہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ محتاط رویہ اختیار کرتے رہے ہیں۔ ٹرمپ کی بعض تنقیدوں کے باوجود انہوں نے اسرائیل کو اپنے کئی سیاسی اور فوجی اہداف حاصل کرنے کی آزادی دی۔ ایران کے خلاف حالیہ جنگ بھی اسی پالیسی کا حصہ تھی، جہاں برسوں کی ناکامی کے بعد نیتن یاہو ایک امریکی صدر کو ایران پر مشترکہ حملے کے لیے آمادہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔
تاہم جنگ کے نتائج توقعات کے برعکس نکلے اور امریکہ نے اسرائیل کی واضح مشاورت کے بغیر ایران کے ساتھ معاہدہ کر لیا، جس نے اسرائیل اور امریکہ کے درمیان “خصوصی تعلقات” سے متعلق کئی دیرینہ تصورات کو ہلا کر رکھ دیا۔
معاہدے کے مطابق امریکہ نہ صرف ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے منصوبے کی حمایت کرے گا بلکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے مستقل خاتمے کو بھی یقینی بنائے گا۔
اس اعلان کے فوراً بعد اسرائیل نے لبنان پر شدید بمباری کی۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق جمعہ کو اسرائیلی حملوں میں کم از کم 47 افراد جاں بحق ہوئے۔ دوسری جانب حزب اللہ کے حملوں میں چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے انتہائی اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا کہ “پورا لبنان جل جانا چاہیے”۔
تاہم امریکی دباؤ اور ایران-امریکہ معاہدے کے خطرے میں پڑ جانے کے خدشات کے باعث جمعہ کی شام اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
نیتن یاہو کے لیے مشکل صورتحال
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو ایک ایسی صورتحال میں پھنس چکے ہیں جہاں ایک طرف انہیں امریکہ کی ناراضی سے بچنا ہے، جو اسرائیل کا سب سے بڑا سفارتی اور مالی حامی ہے، جبکہ دوسری جانب انہیں اسرائیلی عوام اور سیاسی اشرافیہ کو بھی مطمئن رکھنا ہے جو اس معاہدے کو مسترد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
جمعرات کو شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق صرف ایک محدود تعداد میں اسرائیلی شہری سمجھتے ہیں کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ جیت سکا ہے۔
اسرائیلی سیاسی تجزیہ کار ڈاہلیا شینڈلن کے مطابق امریکہ-ایران مفاہمتی معاہدے پر اسرائیل میں مایوسی انتہائی گہری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی عوام بخوبی جانتے ہیں کہ نیتن یاہو نے جو بڑے بڑے وعدے کیے تھے ان میں سے کوئی بھی پورا نہیں ہوا۔ عوام کا خیال ہے کہ جنگ قبل از وقت ختم کر دی گئی اور منصوبہ بندی میں کہیں نہ کہیں بڑی غلطی ہوئی۔
جے ڈی وینس کی غیر معمولی تنقید
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اسرائیلی قیادت اور معاہدے کے ناقدین کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں اسرائیل کا واحد طاقتور اور ہمدرد اتحادی امریکہ ہے، لہٰذا اسرائیلی حکومت کو اپنے اسی اتحادی کے خلاف محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہیے۔
وینس کے بیان کو اسرائیلی وزراء ایتامار بن گویر اور وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے لیے واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے، جو ایران معاہدے کے سخت مخالف ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ؟
بین الاقوامی امور کے ماہر یوسی میکل برگ کے مطابق شاید پہلی بار کسی امریکی صدر یا نائب صدر نے اسرائیل اور اس کی لبنان پالیسی پر اتنی کھل کر تنقید کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو جانتے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ حقیقی تصادم کے متحمل نہیں ہو سکتے، لیکن اپنی سیاسی بقا کے لیے انہیں کم از کم یہ تاثر دینا ہوگا کہ وہ واشنگٹن کے سامنے مکمل طور پر جھکے نہیں ہیں۔
ماہرین کے مطابق آئندہ انتخابات تک وقت حاصل کرنا نیتن یاہو کی بنیادی حکمت عملی بن چکی ہے۔
ایران کا خوف: نیتن یاہو کی سیاست کا محور
سیاسی مبصرین یاد دلاتے ہیں کہ نیتن یاہو 1990 کی دہائی سے ایران کے خطرے کو اپنی سیاست کا مرکزی نعرہ بناتے رہے ہیں۔ وہ مسلسل دعویٰ کرتے رہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے، جبکہ حزب اللہ کو بھی اسرائیلی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کے بائیں بازو کے رکن اوفر کاسیف کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت کا اصل مقصد معاہدے کو سبوتاژ کرنا ہے۔
ان کے مطابق حکومت عوام کے سامنے سیکیورٹی اور دفاع کا بیانیہ پیش کر رہی ہے، لیکن حقیقت میں وہ امریکہ-ایران معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
کاسیف نے سخت الفاظ میں کہا کہ “تباہی ہی ان کا اصل مقصد ہے۔”