تحریر: اِشفاق احمد
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ Ishaq Dar نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں تاخیر محرم الحرام کے باعث ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں کسی قسم کی رکاوٹ موجود نہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ حالیہ پیش رفت کے بعد، جب ایران اور امریکہ کے صدور نے ایک معاہدے پر دستخط کیے، تو پاکستان کے لیے سوئٹزرلینڈ جانے کا عملی جواز باقی نہیں رہا۔
اسحاق ڈار کے مطابق محرم الحرام کی مذہبی مصروفیات کے ساتھ ساتھ جولائی کے آغاز میں ایران کی اعلیٰ قیادت سے متعلق اہم مذہبی و ریاستی تقاریب بھی شیڈول ہیں، جن کی وجہ سے مذاکراتی عمل وقتی طور پر سست روی کا شکار ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کے پاس 60 دن کے اندر دوسرے مرحلے کے مذاکرات مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن موجود ہے، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث جنیوا میں موجود پاکستانی سفارتی عملے کو واپس بلا لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی مجوزہ تقریب 19 جون کو جنیوا میں ہونا تھی، جو بعد ازاں منسوخ کر دی گئی۔ اس سے قبل اسی معاہدے پر ابتدائی دستخط مبینہ طور پر امریکی صدر Donald Trump اور ایرانی صدر Masoud Pezeshkian کی سطح پر ہوئے تھے، جبکہ پاکستان کے وزیراعظم Shehbaz Sharif نے ثالث کے طور پر اس عمل میں کردار ادا کیا تھا۔
سوئس وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی تھی کہ برگن اسٹاک میں طے شدہ مشرقِ وسطیٰ امن مذاکرات کی تقریب اب منعقد نہیں ہوگی، تاہم منسوخی کی مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
ماہرین کے مطابق اس اچانک تبدیلی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ سینئر صحافی کامران یوسف کے مطابق سب سے بڑا خدشہ یہ تھا کہ کچھ “اسپائلرز” اس حساس عمل کو نقصان پہنچا سکتے تھے، اسی لیے ممکنہ طور پر براہِ راست تقریب کے بجائے الیکٹرانک دستخط کا راستہ اپنایا گیا۔
ان کے مطابق دوسرا اہم پہلو یہ تھا کہ معاہدے کا مسودہ وقت سے پہلے منظرِ عام پر آ گیا، جس پر دونوں فریقین کی جانب سے ردعمل سامنے آیا، جبکہ ثالثی ٹیموں نے مؤقف اپنایا کہ حتمی معاہدے سے قبل تفصیلات عام نہ کی جائیں۔
اسی طرح یہ بھی کہا گیا کہ ایران کی داخلی صورتحال اور مذہبی حساسیت، خصوصاً ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei سے متعلق آئندہ تقاریب، بھی فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔
سینئر سفارت کار جوہر سلیم کے مطابق اصل پیش رفت یہ ہے کہ معاہدہ کسی نہ کسی شکل میں مکمل ہو گیا ہے، چاہے وہ الیکٹرانک دستخطوں کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں اس نوعیت کے سفارتی معاہدے آن لائن طریقے سے بھی طے پا جاتے ہیں، اور اصل کامیابی پاکستان سمیت ثالث ممالک کی سفارتی کوششیں ہیں۔
دوسری جانب جنیوا میں موجود صحافی عامر الیاس رانا کے مطابق ریزورٹ میں تمام تیاریاں مکمل تھیں اور مختلف ممالک کے وفود بھی وہاں پہنچ چکے تھے، تاہم اچانک سفارتی صورتحال بدلنے کے بعد منصوبہ تبدیل کر دیا گیا۔
ان کے مطابق سکیورٹی انتظامات سوئس اور امریکی حکام کے درمیان تقسیم تھے، لیکن جیسے جیسے خطے میں کشیدگی اور خصوصاً لبنان پر حملوں کی اطلاعات آئیں، ایران نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پر تحفظات ظاہر کیے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ تمام وفود واپس جا رہے ہیں، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق 60 روزہ ٹائم فریم کے اندر تکنیکی سطح پر مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان اب بھی موجود ہے، اگر حالات سازگار رہے۔