کیا آبنائے ہرمز پر فیس لگے گی؟ امریکا نے فیصلہ کن جواب دے دیا

فہرستِ مضامین

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ معاہدے کے تناظر میں خلیجی اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے لیے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی پہنچ گئے ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے خلیجی ممالک کو سکیورٹی سے متعلق یقین دہانیاں کرائے جانے کا امکان ہے تاکہ خطے میں جاری سفارتی پیش رفت پر اتحادی ممالک کے تحفظات دور کیے جا سکیں۔

ابوظبی آمد کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور عالمی قوانین کے تحت کسی بھی ملک کو یہاں سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس یا اضافی فیس عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی آبی راستوں پر ٹیکس یا فیس نافذ کرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہے اور خطے کے بیشتر ممالک امریکا کے اس مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو ایک انقلابی تحریک کے بجائے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران ریاستی اصولوں کے مطابق آگے بڑھے تو اس کے لیے ترقی اور استحکام کے وسیع مواقع موجود ہیں، تاہم ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کی کارروائیوں کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔

مارکو روبیو نے مزید کہا کہ عراق سے ہونے والے میزائل اور ڈرون حملے علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ان کے مطابق عراق میں بعض مسلح گروہ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور امریکا، ایران کے ساتھ آئندہ مذاکرات میں اس معاملے کو بھی زیر بحث لائے گا۔

دوسری جانب عمان اور ایران نے منگل کو جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں کہا تھا کہ دونوں ممالک آبنائے ہرمز کے انتظامی امور اور وہاں فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض وصول کی جانے والی فیسوں کے نظام کا جائزہ لینے پر غور کر رہے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں