امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں لبنان میں جنگ بندی ایک مرکزی نکتہ بن گئی ہے، جبکہ امریکا نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور رواں ہفتے منگل سے جمعرات تک واشنگٹن میں منعقد ہوگا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور حزب اللہ نے لبنان میں ایک نئی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں جاری جھڑپوں اور فضائی حملوں نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) کو خطرات سے دوچار کر دیا تھا۔ ایران، جو حزب اللہ کا اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے، مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ لبنان میں مستقل جنگ بندی کے بغیر امریکا کے ساتھ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں۔
اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں لبنان کے بڑے حصے متاثر ہوئے ہیں۔ جنوبی لبنان اور دارالحکومت بیروت پر حملوں میں چار ہزار سے زائد افراد جاں بحق جبکہ دس لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی افواج نے جنوبی علاقوں میں اپنی موجودگی بھی برقرار رکھی ہوئی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان پیش رفت
پیر کے روز قطر اور پاکستان نے مشترکہ طور پر بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے مرحلے میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے، جس کے بعد امریکا اور ایران نے ایک نئے سفارتی روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد آئندہ 60 دنوں میں ایک جامع معاہدے تک پہنچنا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے فریم ورک کے تحت لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک خصوصی “ڈی کنفلیکشن سیل” قائم کیا جائے گا، جو جنگ بندی پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گا۔ اس کے علاوہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی اور براہ راست رابطوں کا نظام بھی تشکیل دیا جائے گا تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران دو الگ رابطہ نظام قائم کریں گے، جن میں سے ایک لبنان میں جنگ بندی کی نگرانی کرے گا جبکہ دوسرا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کے خاتمے کے لیے کام کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس بات کا خواہاں ہے کہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت محفوظ رہے جبکہ اسرائیل کی سلامتی کے خدشات کا بھی مناسب حل نکالا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لیے لبنانی فوج کے ساتھ تعاون اور ایران کی جانب سے حزب اللہ پر اثرورسوخ کا استعمال ضروری ہوگا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکراتی عمل میں “نمایاں پیش رفت” کا خیرمقدم کیا، تاہم خبردار کیا کہ اصل امتحان جنگ بندی کے نفاذ اور نئے نگرانی نظام کی کارکردگی ہوگا۔
لبنان اور حزب اللہ کا مؤقف
لبنانی صدر جوزف عون نے پیر کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کی۔ اس دوران لبنان میں جنگ بندی کو مضبوط بنانے اور کشیدگی کم کرنے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تاہم حزب اللہ نے مجوزہ مذاکرات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل پہلے مکمل طور پر لبنانی سرزمین سے اپنی فوج واپس بلائے، اس کے بعد ہی کسی سیاسی عمل کو آگے بڑھایا جائے۔
اسرائیل کا سخت مؤقف برقرار
اسرائیل گزشتہ کئی ہفتوں سے واضح کر چکا ہے کہ وہ لبنان سے اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان، شام اور غزہ میں قائم سیکیورٹی زونز میں غیر معینہ مدت تک موجود رہے گی تاکہ سرحدی علاقوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں، لیکن اسرائیلی افواج نے حالیہ دنوں تک لبنان میں حملے جاری رکھے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی “ضرورت کے مطابق” برقرار رکھی جائے گی۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہر قومی سلامتی کے مسئلے کا حل صرف فوجی کارروائیوں کے ذریعے تلاش نہیں کیا جا سکتا۔
کیا لبنان میں پہلے بھی جنگ بندی ہو چکی تھی؟
لبنان اور اسرائیل کے درمیان نومبر 2024 میں امریکا کی ثالثی میں ایک جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان براہ راست لڑائی کا خاتمہ تھا۔ تاہم اس معاہدے میں اسرائیل کو ممکنہ خطرات کے پیش نظر کارروائی کا اختیار حاصل تھا، جس کے باعث کشیدگی مکمل طور پر ختم نہ ہو سکی۔
بعد ازاں فروری اور مارچ 2026 میں خطے میں دوبارہ جھڑپیں شروع ہوئیں، جس کے نتیجے میں اسرائیل نے لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دیں۔ اگرچہ اپریل میں دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست مذاکرات بھی ہوئے اور عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، لیکن زمینی صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہ آ سکی۔
اب واشنگٹن میں ہونے والے نئے مذاکرات کو خطے میں امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار جنگ بندی پر حقیقی عملدرآمد اور تمام فریقوں کے سیاسی عزم پر ہوگا۔