برطانیہ کے وزیرِاعظم Keir Starmer نے پیر کو اپنی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اقتدار کی منتقلی کے عمل کو منظم اور مستحکم رکھنے کے لیے عبوری طور پر اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔
لندن میں 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹارمر نے کہا کہ جب انہوں نے لیبر پارٹی کی قیادت سنبھالی تھی تو جماعت شدید سیاسی مشکلات کا شکار تھی، تاہم ان کے دور میں ملکی معیشت نے بہتری کی جانب سفر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے پارٹی رہنما کے انتخاب تک وہ وزیرِاعظم کے منصب پر برقرار رہیں گے۔
اسٹارمر کے مطابق وہ اپنے فیصلے سے King Charles III کو بھی آگاہ کر چکے ہیں، جبکہ لیبر پارٹی سے درخواست کی جائے گی کہ قیادت کے انتخاب کا باقاعدہ شیڈول جاری کیا جائے۔ پارٹی قیادت کے لیے نامزدگیوں کا عمل 9 جولائی سے شروع ہونے کی توقع ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس پیش رفت کے بعد گریٹر مانچسٹر کے میئر Andy Burnham لیبر پارٹی کی قیادت کے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ گئے ہیں۔ اگر وہ وزارتِ عظمیٰ تک پہنچتے ہیں تو بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد گزشتہ ایک دہائی میں برطانیہ کے ساتویں وزیرِاعظم بن جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسٹارمر نے دو سال قبل تاریخی انتخابی کامیابی حاصل کی تھی اور ان سے سیاسی استحکام کی توقع کی جا رہی تھی، مگر حالیہ مہینوں میں ان پر دباؤ مسلسل بڑھتا رہا۔ یہ دباؤ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب اینڈی برنہم نے ایک اہم ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے دوبارہ پارلیمنٹ میں واپسی کی راہ ہموار کی۔
برنہم نے اس انتخاب میں Nigel Farage کی حمایت یافتہ ریفارم پارٹی کے امیدوار کو شکست دی، جس کے بعد لیبر پارٹی کے کئی ارکان نے انہیں جماعت کی گرتی ہوئی مقبولیت کو بحال کرنے کے لیے موزوں رہنما قرار دینا شروع کر دیا ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ قیادت کی تبدیلی تمام مسائل کا حل نہیں ہوگی۔ برنہم اگرچہ عوامی مسائل، مہنگائی اور معیارِ زندگی میں بہتری پر زور دیتے ہیں، لیکن خارجہ پالیسی، دفاع اور معاشی حکمتِ عملی جیسے اہم معاملات پر ان کا تفصیلی مؤقف ابھی تک واضح نہیں ہے۔
دوسری جانب برطانیہ کو بڑھتے ہوئے قومی قرضے، بلند شرح سود، کمزور معاشی نمو اور دفاعی و سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں نئی قیادت کے لیے عوامی توقعات پر پورا اترنا آسان نہیں ہوگا۔
سیاسی ماہرین کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران برطانیہ میں قیادت کی بار بار تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عوامی اعتماد برقرار رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب شہری مہنگائی، کمزور عوامی خدمات اور غیر قانونی امیگریشن جیسے مسائل پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔