سوئٹزرلینڈ مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل، ایرانی وفد تہران واپس روانہ

فہرستِ مضامین

پاکستان اور قطر کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اہم امریکی۔ایرانی مذاکرات کے پہلے مرحلے کے اختتام پر ایرانی وفد پیر کو تہران واپس روانہ ہو گیا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان تقریباً 18 گھنٹے تک جاری رہنے والی طویل اور حساس مشاورت کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی۔

ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی مذاکراتی ٹیم کا حصہ تھے۔ ذرائع کے مطابق وفد پیر کی صبح مذاکراتی مقام سے روانہ ہوا، جہاں رات بھر مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال جاری رہا۔

ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگرچہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو چکا ہے، تاہم تکنیکی ماہرین کے درمیان بات چیت پورے ہفتے جاری رہے گی۔ ان نشستوں میں مجوزہ معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار، نگرانی کے نظام اور خصوصی تکنیکی کمیٹیوں کے قیام پر غور کیا جائے گا۔

دوسری جانب سوئس وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ بورگن شٹوک میں ہونے والے مذاکرات دیر رات تک جاری رہے، جن میں امریکی اور ایرانی نمائندوں کے علاوہ ثالثی کرنے والے ممالک کے وفود بھی شریک تھے۔ وزارت کے مطابق موجودہ حالات دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح پر مزید پیش رفت کے لیے سازگار دکھائی دے رہے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ اپنی روایتی سفارتی ثالثی کی پالیسی کے تحت اس عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ مذاکراتی عمل بغیر تعطل کے آگے بڑھ سکے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں مذاکرات کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا۔ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کے سخت مؤقف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ سخت بیانات نے ماحول کو کشیدہ بنا دیا تھا، تاہم بعد ازاں ثالثی کی کوششوں سے فریقین کے درمیان فاصلے کم ہوئے۔

پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے ایک ابتدائی ’’روڈ میپ‘‘ پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد آئندہ 60 دنوں کے اندر ایک جامع اور حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔

اعلامیے کے مطابق فریقین نے لبنان میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مشترکہ طریقۂ کار پر بھی اتفاق کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی رابطہ نظام قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

مبصرین کے مطابق اگر تکنیکی مذاکرات میں پیش رفت برقرار رہی تو آنے والے ہفتے امریکہ اور ایران کے تعلقات میں ایک نئی سفارتی پیش رفت کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں