وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان منگل کے روز ایک روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
نور خان ایئربیس پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔
ایرانی صدر کی آمد پر پاکستان فضائیہ کے جنگی طیاروں نے فضائی سلامی پیش کی جبکہ انہیں 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی، جس سے دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کی عکاسی ہوئی۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق صدر پزشکیان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی پاکستان آیا ہے، جس میں ایرانی کابینہ کے ارکان اور سینئر حکام شامل ہیں۔ دورے کے دوران ایرانی صدر صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ وفود کی سطح پر اہم مذاکرات بھی ہوں گے۔
اسلام آباد میں ایرانی صدر کی آمد کے موقع پر سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور ریڈ زون کو مکمل طور پر محفوظ بنا دیا گیا ہے۔ اپنے دورے کے دوران ایرانی صدر چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، توانائی، سرحدی تعاون، علاقائی رابطوں اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ خطے کی مجموعی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی امور بھی مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔
دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے متعدد مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر بھی غور کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر پزشکیان کا یہ دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا تسلسل ہے، جبکہ دونوں ممالک خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھانے کے لیے بھی پرعزم ہیں۔