“آگ بجھانے کے بجائے بھڑکائی گئی”؛ بلاول بھٹو کی وفاقی وزیر پر سخت تنقید

فہرستِ مضامین

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتہائی محنت اور سنجیدگی سے ملکی معاملات چلا رہے ہیں، تاہم بعض وفاقی وزرا کے بیانات حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کے ساتھ مثبت رابطوں کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کرتے ہیں، لیکن بعض وزرا کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے مسائل کو سیاسی انداز میں حل کرنے کی کوشش کی گئی، مگر ایک وفاقی وزیر نے معاملات کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے مزید کشیدہ بنا دیا اور اب تک معذرت کرنے پر بھی آمادہ نہیں۔

بلاول بھٹو نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی وزیر یہ دعویٰ کرے کہ وہ جیب میں 12 نشستیں لے کر آتا ہے تو ایسے رویے کی حمایت ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ راجہ پرویز اشرف نے خواجہ آصف کو اپنی بات واپس لینے کا موقع دیا، لیکن وہ معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں، جس سے اتحادیوں کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

انہوں نے وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ اپنی ٹیم کو مؤثر انداز میں منظم کریں، کیونکہ ایک وزیر کچھ اور جبکہ دوسرا مختلف مؤقف اختیار کرتا ہے، جس سے وقت گزرنے کے ساتھ مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہر کے عوام کو اپنی مشکلات کا ذمہ دار پیپلز پارٹی کو نہیں بلکہ وفاقی کابینہ میں شامل اپنے نمائندوں کو ٹھہرانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے وزرا نے خود ان معاہدوں میں رکاوٹیں ڈالیں جو پی ڈی ایم حکومت کے دوران طے پائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اتحادی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ کراچی کے مسائل حل نہیں ہو رہے تو انہیں حکومت میں رہنے کے بجائے واضح فیصلہ کرنا چاہیے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے وہاں بلدیاتی نظام موجود ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) بلدیاتی انتخابات سے گریز کرتی نظر آتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی جیسا بلدیاتی نظام لاہور اور اسلام آباد میں بھی نافذ کیا جائے اور ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ گلگت بلتستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد 90 روز کے اندر بلدیاتی انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو مشورہ دیا کہ عاشورہ سے قبل بجٹ کی منظوری کا عمل مکمل کیا جائے، کیونکہ بعد ازاں پیپلز پارٹی کے ارکان ایوان میں موجود نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں وزیراعظم شہباز شریف کامیاب ہوں کیونکہ ان کی کامیابی سے ملک میں بہتری اور استحکام آئے گا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں