ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق عمان کے ساتھ ہونے والی نئی مفاہمت حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے بھی ایسے اشارے موصول ہوئے ہیں کہ وہ سابقہ وعدوں پر دوبارہ عمل درآمد کے لیے آمادہ ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے نئے انتظام پر مذاکرات آخری مرحلے میں ہیں، تاہم ٹرانزٹ فیس سے متعلق حتمی فیصلہ ایرانی قیادت کی پالیسی اور امریکا کے آئندہ رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ مفاہمت کا مقصد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دینا نہیں ہے بلکہ ایک نیا انتظامی ماڈل متعارف کرانا ہے، جو گزشتہ تقریباً 60 برس سے رائج نظام سے مختلف ہوگا۔ ان کے مطابق اس نئے ماڈل کے تحت بحری جہازوں کا ایک نمایاں حصہ ایرانی سمندری حدود سے گزرے گا۔
کاظم غریب آبادی نے مزید کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے ایسے مثبت اشارے ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اپنے سابقہ وعدوں پر دوبارہ عمل کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید پیش رفت کا انتظار ہے۔
رپورٹس کے مطابق اگر ایران اور عمان کے درمیان یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے بعد آنے والے چند روز میں ایران اور امریکا کے درمیان بھی ایک اہم سفارتی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات موجود ہیں، اگرچہ اس حوالے سے ابھی کسی فریق نے باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔