ٹرمپ معاہدہ چاہتے ہیں، مگر ایران میں اختلافات شدت اختیار کر گئے: جے ڈی وینس

فہرستِ مضامین

امریکا نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران کے معاملے پر اس کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور واشنگٹن مناسب حل تک پہنچنے کے لیے عسکری، سفارتی اور اقتصادی تمام ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران سے متعلق اپنی پالیسی پر مکمل طور پر متحد ہے اور اس معاملے پر حکومت کے اندر کسی قسم کے اختلافات موجود نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت کے اندر مختلف آرا پائی جاتی ہیں، جہاں ایک گروہ کشیدگی کے خاتمے اور جنگ روکنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسرا سخت گیر دھڑا محاذ آرائی جاری رکھنے کا حامی ہے۔ ان کے بقول یہ صورتحال ایرانی حکومت کے اندرونی دباؤ اور کمزوری کی عکاسی کرتی ہے۔

جے ڈی وینس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران کے ساتھ معاہدے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تہران مذاکرات چاہتا ہے، تاہم وہ کھل کر اس کا اعتراف نہیں کرنا چاہتا۔ انہوں نے ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور سلطنت عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مشترکہ اعلامیہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

وزارت کے مطابق دونوں ممالک آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی جغرافیائی حدود اور نئے روٹ کے خدوخال پر اتفاق کر چکے ہیں، جبکہ اس معاہدے کی باضابطہ تکمیل کے لیے حتمی قانونی کارروائی جاری ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ عمان کے ساتھ طے پانے والا نیا بحری راستہ عارضی نوعیت کا ہوگا اور ابتدائی طور پر کم از کم دو ماہ یا اس سے زیادہ عرصے کے لیے نافذ کیا جا سکتا ہے۔

تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد بعض مخصوص ثالث ممالک کی عدم مداخلت سے مشروط ہوگا، جبکہ اس حوالے سے مزید سفارتی مشاورت بھی جاری ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں