حوثیوں کا نجران پر حملہ، پاکستانی سمیت 11 افراد زخمی

فہرستِ مضامین

یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والی اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے علاقے نجران پر داغے گئے اندھا دھند پروجیکٹائلز کے نتیجے میں ایک بچے اور ایک خاتون سمیت 11 افراد زخمی ہو گئے۔

ترجمان کے مطابق زخمیوں میں 7 سعودی شہری شامل ہیں، جن میں ایک خاتون اور چار سالہ بچہ بھی ہے۔ بچے کو دوسرے درجے کے جھلسنے کے زخم آئے، جبکہ متاثرین میں ایک پاکستانی، دو مصری اور ایک یمنی مقیم بھی شامل ہیں۔ یہ حملہ جمعرات کے روز پیش آیا۔

ترکی المالکی نے کہا کہ حوثیوں نے رہائشی علاقوں اور شہری املاک کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کے مطابق عام شہریوں اور بنیادی تنصیبات پر حملے کسی صورت قابل قبول نہیں اور یہ جنگی قوانین کے منافی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اتحادی افواج شہریوں کے تحفظ کے لیے ایسے حملوں کا مؤثر جواب دینے اور مستقبل میں انہیں روکنے کے لیے تمام ضروری دفاعی اقدامات جاری رکھیں گی تاکہ متاثرہ علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی مسلسل کارروائیاں، بحری جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی کوششیں اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سرگرمیاں علاقائی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے شہریوں، مقیم افراد اور اہم تنصیبات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں