تیل کی قیمتیں، امریکی انتخابات اور ہرمز؛ ایران کا خطرناک منصوبہ کیا ہے؟

فہرستِ مضامین

تہران: ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں آبنائے ہرمز ایک بار پھر مرکزی تنازع بن گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی قیادت کا خیال ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ حالات اس کے حق میں تبدیل ہوسکتے ہیں اور مسلسل عسکری و معاشی دباؤ بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کسی سمجھوتے پر مجبور کرسکتا ہے۔

ایرانی حکام اس حکمت عملی کے تحت آبنائے ہرمز کو ایک اہم اسٹریٹجک دباؤ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور اس میں طویل رکاوٹ عالمی سطح پر تیل، ایندھن اور دیگر اشیا کی قیمتوں پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تہران اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھ رہا ہے کہ جدید انٹرسیپٹر میزائلوں سمیت بعض اہم امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر مسلسل فوجی کارروائیوں کے باعث دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی عوام میں جنگ کی مقبولیت اور نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات بھی واشنگٹن کے لیے سیاسی چیلنج بن سکتے ہیں۔

ایران کا بڑا داؤ، ہرمز کو دباؤ کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی

ایرانی قیادت کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھلوانا امریکا کے لیے آسان نہیں ہوگا اور اس کے لیے بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی یا زمینی فوج کی تعیناتی تک کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ایران یہ بھی سمجھتا ہے کہ یمن میں اس کے حوثی اتحادی خطے میں کشیدگی بڑھانے اور عالمی تجارت کے ایک اور اہم راستے کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی بنیاد پر تہران کو امید ہے کہ واشنگٹن پر جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوگا۔

تاہم ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی ایران کے لیے بھی خطرات سے خالی نہیں۔

ٹرمپ کی دھمکیاں اور مذاکرات کا عندیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک جانب ایران کے خلاف سخت اقدامات اور مزید اقتصادی دباؤ کی دھمکیاں دے رہے ہیں تو دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکانات کا بھی ذکر کرتے رہے ہیں۔

ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ امریکی دباؤ نے ایرانی معیشت کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا ہے اور واشنگٹن ضرورت پڑنے پر دباؤ مزید بڑھا سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کو یہ بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ جنگیں اکثر منصوبہ بندی کے مطابق اختتام پذیر نہیں ہوتیں۔ ایک محدود عسکری کارروائی طویل اور پیچیدہ تنازع میں تبدیل ہوسکتی ہے، جس کے نتائج دونوں فریقوں کے لیے غیر متوقع ہوسکتے ہیں۔

ایران کیلئے آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

تہران میں مقیم سکیورٹی تجزیہ کار مصطفیٰ نجفی کے مطابق آبنائے ہرمز ایران کے لیے محض ایک بحری گزرگاہ نہیں رہی بلکہ یہ علاقائی طاقت کے توازن اور خلیجی سلامتی کے حوالے سے ایک اہم اسٹریٹجک ذریعہ بن چکی ہے۔

ان کے مطابق ہرمز کا معاملہ اب جنگ کے خاتمے اور ایرانی جوہری پروگرام پر جاری تنازع کے حل کے ساتھ جڑ گیا ہے، جس سے دونوں معاملات کو الگ کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

ایرانی تجزیہ کار رحمن قہرمان بور کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے تنازع کے باعث ایرانی جوہری معاملہ فی الحال پس منظر میں چلا گیا ہے، جسے وہ تہران کے لیے ایک سیاسی فائدہ قرار دیتے ہیں۔

اقتصادی نقصان ایران کیلئے بڑا خطرہ

دوسری جانب ایران کو اس حکمت عملی کی بھاری اقتصادی قیمت بھی ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ایرانی صنعتی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے اور امریکی پابندیوں و ناکہ بندی کے باعث تیل کی برآمدات متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ملک کے اندر خوراک اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے عوامی مشکلات میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اس صورتحال کے ساتھ اگر بجلی اور پانی سمیت شہری بنیادی ڈھانچے پر مزید حملوں کا خطرہ بڑھتا ہے تو ایرانی معیشت پر دباؤ مزید شدید ہوسکتا ہے۔

ایرانی حکومت کے اندر بھی ایسے حلقے موجود ہیں جو طویل محاذ آرائی کے معاشی اور سماجی نتائج پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ مسلسل معاشی مشکلات عوامی بے چینی اور احتجاج میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔

ظریف کا سفارت کاری کیلئے موقع سے فائدہ اٹھانے پر زور

ایران کے سابق وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، جنہوں نے 2015 کے جوہری معاہدے کے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا تھا، نے بھی جنگ کے بعد سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ان کے مطابق موجودہ صورتحال سفارت کاری کے لیے ایک غیر معمولی موقع فراہم کرسکتی ہے، تاہم اگر جلد کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کی اقتصادی بحالی مزید مشکل ہوسکتی ہے اور اندرونی بے چینی یا دوبارہ عسکری کشیدگی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

قہرمان بور کے مطابق تہران آبنائے ہرمز کو اس لیے بھی استعمال کر رہا ہے تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ ایران جنگ میں شکست خوردہ نہیں ہوا۔ ان کے خیال میں اس سے حکومت کو اندرون ملک اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ حکمت عملی طویل عرصے تک برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ معاشی دباؤ میں مسلسل اضافہ ایران کے لیے داخلی طور پر بھی مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔

ایران کے مطالبات کیا ہیں؟

ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر معمول پر لانے کے لیے امریکا کو اپنے طرزعمل میں تبدیلی لانا ہوگی۔

تہران کی جانب سے جنگ کے مستقل خاتمے، ایرانی بندرگاہوں سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور خطے سے امریکی افواج کے انخلا سمیت متعدد مطالبات سامنے آئے ہیں۔

ایران نے جنگ سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے، پابندیاں ختم کرنے اور منجمد ایرانی اثاثے بغیر شرائط کے بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح کرچکے ہیں کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول یا اس اہم عالمی آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کا ٹیکس عائد کیے جانے کو قبول نہیں کرے گا۔

یوں آبنائے ہرمز اب صرف ایک بحری راستے کا معاملہ نہیں رہی بلکہ ایران اور امریکا کے درمیان طاقت، معیشت اور سفارت کاری کی کشمکش کا اہم ترین مرکز بن چکی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں