اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات، ضوابط اور رابطہ کاری (NHSR&C) نے میڈیکل کالجز میں خالی نشستوں، فیسوں میں نمایاں فرق اور طبی تعلیم کے معیار سے متعلق معاملات پر فوری اقدامات کی ہدایت کردی۔
قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزارتِ صحت اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں طبی تعلیم سے متعلق مختلف اہم امور کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو زیر التوا معاملات جلد حل کرنے کی ہدایت کی گئی۔
MDCAT 2026 کی تاریخ کا اعلان
اجلاس کے دوران MDCAT 2026 کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ PMDC حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ رواں سال MDCAT کا امتحان اتوار 20 ستمبر 2026 کو منعقد کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق امتحان کے انعقاد کا مقصد شفاف، محفوظ اور منظم امتحانی نظام کو یقینی بنانا اور امیدواروں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔
61 میں سے 35 میڈیکل کالجز مقررہ معیار پر پورے اترے
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک کے 61 میڈیکل کالجز میں سے 35 ادارے مقررہ معیار پر پورے اترتے ہیں۔
کمیٹی نے ان 35 اداروں کی فیسوں کے جواز، فیس کے تعین کے طریقہ کار، جانچ پڑتال اور آڈٹ شدہ مالی رپورٹس کی تفصیلات طلب کرلیں۔
PMDC کو ان میڈیکل کالجز کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی جو مقررہ معیار پر پورے نہیں اترتے لیکن اس کے باوجود طلبہ سے زیادہ فیس وصول کررہے ہیں اور اپنی ویب سائٹس پر بھی یہی فیس ظاہر کررہے ہیں۔
PMDC حکام نے بتایا کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کو نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں اور ان کی نگرانی جاری ہے۔ کمیٹی نے ان نوٹسز اور اداروں کے خلاف ہونے والی کارروائی کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ میڈیکل کالجز کی فیسوں میں کسی بھی اضافے کو واضح معیار اور قابلِ اعتماد شواہد سے منسلک ہونا چاہیے، جس میں تعلیمی معیار، فیکلٹی، بنیادی ڈھانچے اور آڈٹ شدہ مالی معلومات کو مدنظر رکھا جائے۔
میڈیکل کالجز میں خالی نشستوں کا معاملہ
اجلاس میں میڈیکل کالجز میں خالی رہ جانے والی نشستوں پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ خالی نشستیں ایک حقیقی اور وسیع مسئلہ بن چکی ہیں اور اس کی وجہ صرف زیادہ فیس یا MDCAT میں کامیابی کا مخصوص تناسب قرار نہیں دیا جاسکتا۔
کمیٹی نے سرکاری میڈیکل کالجز میں نشستوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز پر بھی غور کیا۔ PMDC کی جانب سے بتایا گیا کہ معائنوں کے بعد پنجاب، سابق فاٹا اور بلوچستان کے لیے اضافی نشستیں پہلے ہی مختص کی جاچکی ہیں۔
سندھ کے سرکاری میڈیکل کالجز میں نشستوں کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے فیصلہ کیا کہ سندھ حکومت اور متعلقہ حکام کے ساتھ الگ اجلاس منعقد کرکے اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ خالی نشستوں کی اصل وجوہات کا مکمل جائزہ لیا جائے، جبکہ PMDC کو خالی نشستوں والے نجی میڈیکل کالجز کا معائنہ کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔
کمیٹی نے گزشتہ اجلاس میں طلب کردہ معلومات فراہم کرنے میں تاخیر پر بھی سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو رپورٹ ایک ماہ کے اندر پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
MDCAT کے پاسنگ معیار پر بھی غور
اجلاس میں MDCAT کے موجودہ 60 فیصد اہلیتی معیار پر بھی بحث ہوئی اور اسے مرحلہ وار کم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی کا کہنا تھا کہ ملک میں طبی تعلیم تک رسائی بڑھانا ضروری ہے، تاہم اس عمل کے دوران تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
BDS پروگرام 4 سے 5 سال کرنے کی تجویز
قائمہ کمیٹی نے بی ڈی ایس (BDS) پروگرام کی مدت چار سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا۔
PMDC حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد پاکستان میں ڈینٹل تعلیم کے پروگرام کو عالمی معیارات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ حکام نے بتایا کہ موجودہ چار سالہ پروگرام کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے مناسب انتظامات پر بھی غور کیا جائے گا۔
نرسنگ شعبے میں ڈیجیٹل نظام متعارف
اجلاس میں پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل (PNMC) کے امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ نرسنگ اداروں کے معائنے جاری ہیں جبکہ انسپکٹرز کے لیے نئی ڈیجیٹل ایپ متعارف کرائی گئی ہے، جس کے ذریعے معائنے کی معلومات ریئل ٹائم میں ریکارڈ کی جاسکیں گی۔
نرسنگ کے شعبے سے متعلق شکایات کے لیے الگ پورٹل بھی قائم کیا گیا ہے جبکہ لائسنسنگ کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کی جانب بھی پیش رفت جاری ہے۔
کمیٹی نے اپنا آئندہ اجلاس PNMC میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔
فارمسی کونسل بل پر بھی کام شروع
کمیٹی کو بتایا گیا کہ سابقہ سفارشات کی روشنی میں فارمسی کونسل بل پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ بل کا مسودہ مکمل ہونے کے بعد قائمہ کمیٹی کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے کہا کہ متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے بروقت، شواہد پر مبنی اور مؤثر کارروائی کی توقع ہے، خصوصاً میڈیکل کالجز کی نشستوں، اداروں کے معائنے، فیسوں کے ضابطے اور ملک میں طبی تعلیم کے معیار کے حوالے سے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر صحت، ارکان قومی اسمبلی اور وزارتِ صحت کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔