ٹرمپ کو ’ایئر فورس ون‘ سے خفیہ طور پر کیوں نکالا گیا؟

فہرستِ مضامین

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ترکی سے روانگی کے دوران انہیں صدارتی طیارے ’ایئر فورس ون‘ سے خفیہ طور پر نکال کر ایک دوسرے فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا، کیونکہ امریکی سیکرٹ سروس اور فوج کو ان کی سلامتی سے متعلق ممکنہ خطرے کا خدشہ تھا۔

ٹرمپ کے مطابق سکیورٹی حکام نے انہیں ہدایت دی کہ وہ دوسرے طیارے کے ذریعے سفر کریں، اور انہوں نے سکیورٹی اداروں کی ہدایات پر عمل کیا۔

یہ بیان واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ کی بھی تصدیق کرتا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انقرہ ایئرپورٹ پر ٹرمپ کو ایک سپلائی ٹرک کے ذریعے خفیہ طور پر ایک C-32A فوجی طیارے تک پہنچایا گیا، جبکہ صحافیوں، سکیورٹی اہلکاروں اور وائٹ ہاؤس کے دیگر ارکان کو یہی تاثر دیا گیا کہ صدر اب بھی ’ایئر فورس ون‘ میں موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اصل ’ایئر فورس ون‘ کو ممکنہ طور پر ایران کی جانب سے کسی حملے کے خطرے کی صورت میں ڈیکوئے کے طور پر استعمال کیا گیا، تاکہ صدر کے حقیقی مقام کا سراغ لگانا مشکل ہو۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ سکیورٹی اداروں کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں اور انہیں جو کہا جاتا ہے، وہی کرتے ہیں۔ انہوں نے ایران کے حوالے سے بھی کہا کہ انہیں تہران پر اعتماد نہیں ہے۔

ٹرمپ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے اور حال ہی میں تزئین و آرائش کیے گئے صدارتی طیارے پر انقرہ پہنچے تھے۔ تاہم واپسی پر انہوں نے پرانے طرز کے ہلکے نیلے رنگ کے ’ایئر فورس ون‘ میں سفر کرنے کا اعلان کیا، جسے انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ’’پرانے دنوں کی یاد‘‘ قرار دیا تھا۔

لیکن اصل سکیورٹی منصوبہ اس سے کہیں مختلف نکلا۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ کو کیمروں کے سامنے پرانے صدارتی طیارے میں سوار ہونے کے بعد خاموشی سے ایک سپلائی ٹرک کے ذریعے دوسرے فوجی طیارے میں منتقل کر دیا گیا، جبکہ نیا صدارتی طیارہ بھی برطانیہ کے رائل ایئر فورس بیس میلڈن ہال پہنچا، جہاں امریکی فوجی ماہرین نے اس کا معائنہ کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دورانِ پرواز بعض صحافیوں کو طیارے کے مخصوص حصے کی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے کچھ اہلکار بھی اس بات سے لاعلم رہے کہ صدر کو پہلے ہی دوسرے طیارے میں منتقل کیا جا چکا ہے۔

ایسا حفاظتی اقدام امریکی تاریخ میں پہلی بار نہیں ہوا۔ سال 2000 میں سابق صدر بل کلنٹن کے پاکستان کے دورے کے دوران بھی ایک متبادل طیارے کا استعمال کیا گیا تھا، جبکہ سرکاری صدارتی طیارے کو بطور ڈیکوئے استعمال کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

یوں ترکی سے ٹرمپ کی واپسی محض ایک طیارہ تبدیل کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسے خفیہ سکیورٹی آپریشن کی شکل اختیار کر گئی، جس کا مقصد بظاہر امریکی صدر کی اصل نقل و حرکت کو ممکنہ خطرے سے پوشیدہ رکھنا تھا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں