بحیرۂ احمر میں کیا ہوا؟ تین پاکستانی شہری جان سے گئے

فہرستِ مضامین

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحیرۂ احمر میں ایک تجارتی بحری جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ واقعے میں تین پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔

اسحاق ڈار نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ غیر جنگی تجارتی جہازوں پر ایسے حملے نہ صرف بے گناہ افراد کی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی بھی ہیں۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں بحیرۂ احمر میں بحری سلامتی، آزادانہ جہاز رانی اور عالمی تجارتی نقل و حمل کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستانی حکام واقعے کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے سعودی حکام اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے رابطے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ حکام سے فوری رابطہ کرتے ہوئے جاں بحق پاکستانی شہریوں کی میتوں کی بازیابی اور وطن واپسی کے لیے ضروری اقدامات کرے۔ زخمی پاکستانی شہری کو بھی ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔

دوسری جانب یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے ایک روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ حوثیوں نے باب المندب سے گزرنے والے مال بردار بحری جہاز ’تہامہ‘ پر چار میزائل داغے۔ وزارت کے مطابق حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور اسے شدید نقصان پہنچا۔

یمنی حکام کا کہنا ہے کہ جب امدادی ٹیمیں جہاز کے عملے کو بچانے کے لیے پہنچیں تو ایک اور میزائل فائر کیا گیا، جس سے امدادی کارروائی متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔

یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے حوثیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حکومت کے زیرِ کنٹرول بندرگاہوں کی جانب جانے والے تجارتی جہازوں کو دانستہ نشانہ بنا رہے ہیں۔ وزارت نے خبردار کیا کہ ایسے حملوں سے خوراک، روزمرہ استعمال کی اشیا اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں