ایرانی میزائل حملوں میں 18 امریکی اہلکار ہلاک، 800 زخمی

فہرستِ مضامین

بین الاقوامی: اردن میں قائم امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جبکہ رواں تنازع کے دوران 18 امریکی فوجی اہلکار ہلاک اور 800 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ اردن کے موافق سلطی ایئربیس پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں امریکی فوجی اثاثوں کو نقصان پہنچا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ نقصان حالیہ حملوں سے قبل بھی ہوا اور بعد کے حملوں میں بھی امریکی طیارے متاثر ہوئے۔

ایک امریکی رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں اور اس سے متعلق کارروائیوں کے دوران تقریباً دو درجن ڈرون طیارے تباہ ہوئے، جبکہ بمبار جنگی طیاروں سمیت دیگر فوجی طیاروں کو بھی نقصان پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق مئی میں جاری کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ 28 فروری کے بعد سے مجموعی طور پر 42 امریکی فوجی طیارے متاثر ہو چکے ہیں۔ امریکی فوجی حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسی عرصے میں 18 اہلکار ہلاک اور تقریباً 800 زخمی ہوئے۔

امریکی عہدیدار کے مطابق اے-10 تھنڈربولٹ ٹو طیارہ بھی ایرانی حملے میں متاثر ہوا اور اس کا ایک پر تباہ ہوگیا۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق آٹھ ایف-15 طیاروں کو بھی نقصان پہنچا، تاہم ان میں سے بعض کی مرمت کے بعد دوبارہ آپریشنل ہونے کی اطلاع ہے۔

رپورٹ کے مطابق اردن میں امریکی فضائی اڈے پر ایرانی حملہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ نے ایران کے خام تیل سے لدے پانچ بحری جہازوں کو نشانہ بنایا تھا۔

امریکہ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی، جن میں ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بحریہ کے جہازوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

دوسری جانب امریکی دفاعی حکام نے ایرانی میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کے کم از کم 30 انٹرسیپٹرز کی ضرورت ظاہر کی ہے۔ حکام کے مطابق انٹرسیپٹرز کی طلب میں اضافہ امریکی فوج کے لیے ایک تشویشناک معاملہ بن چکا ہے، تاہم اس حوالے سے تفصیلی اعداد و شمار خفیہ رکھے گئے ہیں۔

سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ایک اندازے کے مطابق فروری سے جولائی کے دوران امریکہ کے تقریباً 65 فیصد پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز استعمال ہو چکے تھے۔ ادارے کے تخمینے کے مطابق امریکہ کے پاس اب 850 سے بھی کم انٹرسیپٹرز باقی رہ گئے ہیں، جبکہ ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے وقت یہ تعداد تقریباً 2 ہزار 330 تھی۔

نوٹ: خبر میں دیے گئے ہلاکتوں، زخمیوں اور فوجی سازوسامان کے نقصانات کے اعداد و شمار امریکی حکام اور رپورٹس سے منسوب ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں