ڈیانا کی موت پر جیسے چارلس کی لاٹری نکل آئی ہو!

فہرستِ مضامین

برطانوی بادشاہ چارلس سوم کی سابق اہلیہ شہزادی ڈیانا کی موت کے فوری بعد ان کے مبینہ ردعمل سے متعلق ایک نیا دعویٰ سامنے آیا ہے۔

یہ دعویٰ شہزادی ڈیانا کے بھائی چارلس اسپینسر کی آئندہ شائع ہونے والی کتاب ’سوان سانگ: ڈیانا، مائی سسٹر‘ میں کیا گیا ہے، جس کے اقتباسات برطانوی اخبار ڈیلی میل میں شائع کیے جا رہے ہیں۔

چارلس اسپینسر کے مطابق ڈیانا کی موت کی اطلاع ملنے کے بعد اس وقت کے شہزادہ چارلس کی آواز انتہائی خوش دکھائی دے رہی تھی۔ اسپینسر نے لکھا کہ انہیں محسوس ہوا جیسے چارلس کسی لاٹری جیتنے والے شخص کی طرح غیر معمولی طور پر خوش تھے۔

اسپینسر نے قیاس ظاہر کیا کہ شاید چارلس کی پہلی سوچ یہ تھی کہ ڈیانا کی موت کے بعد انہیں اپنی پسند کی خاتون سے شادی کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

تاہم بکنگھم پیلس نے ان دعوؤں پر غیر معمولی طور پر ردعمل دیتے ہوئے انہیں مسترد کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

محل کے ترجمان نے کہا کہ اگرچہ اصولی طور پر شاہی خاندان کتابوں پر تبصرہ نہیں کرتا، تاہم بادشاہ چارلس اس بات سے آگاہ ہیں کہ قریبی عزیز کے انتقال کا غم برسوں بعد بھی انسان کی یادداشت، سوچ اور فیصلوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

کتاب کے ایک اور اقتباس میں اسپینسر نے دعویٰ کیا کہ شہزادی ڈیانا کی آخری رسومات میں ان کے بیٹوں شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کی شرکت کے معاملے پر چارلس نے ان سے غصے میں بات کی۔

اسپینسر کے مطابق اس وقت ولیم کی عمر 15 جبکہ ہیری کی عمر صرف 12 سال تھی۔ ان کے بقول چارلس نے ٹیلی فون پر سخت لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی ڈیانا کو بھول جائیں گے۔

شہزادی ڈیانا 31 اگست 1997 کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک کار حادثے میں 36 سال کی عمر میں انتقال کرگئی تھیں۔ حادثے کے وقت ان کے ساتھ ڈوڈی الفاید بھی موجود تھے، جبکہ گاڑی کا پیچھا فوٹوگرافرز کر رہے تھے۔

ڈیانا کی موت کے بعد برطانیہ میں بڑے پیمانے پر سوگ منایا گیا اور شاہی خاندان کی جانب سے عوامی جذبات کے اظہار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری دونوں ماضی میں اپنی والدہ کے تابوت کے پیچھے چلنے کے تجربے کو انتہائی مشکل قرار دے چکے ہیں۔

چارلس اور ڈیانا نے 1992 میں علیحدگی اختیار کی تھی اور 1996 میں ان کی طلاق ہوگئی۔ اس سے ایک سال قبل ڈیانا نے بی بی سی کو دیے گئے مشہور انٹرویو میں چارلس کے کیملا پارکر باؤلز کے ساتھ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس شادی میں تین افراد تھے، اس لیے گنجائش کچھ کم تھی۔ چارلس نے بعد ازاں 2005 میں کیملا سے شادی کرلی۔

چارلس اسپینسر نے اپنی کتاب میں ایک اور سنگین دعویٰ کرتے ہوئے لکھا کہ ڈیانا اپنی زندگی کے آخری برسوں میں برطانیہ کے جنوبی ساحل پر واقع بیچی ہیڈ نامی مقام پر ایک سے زیادہ مرتبہ گئی تھیں، جہاں مبینہ طور پر وہ اپنی زندگی ختم کرنے کے بارے میں سوچتی تھیں۔ اسپینسر کے مطابق ان کے بیٹوں سے محبت نے انہیں ایسا قدم اٹھانے سے روک دیا۔

دوسری جانب چارلس کے سابق مواصلاتی مشیر جولین پین نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ انہیں یقین کرنا مشکل ہے کہ سابق بادشاہ نے واقعی ایسے الفاظ استعمال کیے ہوں گے۔

شاہی امور کی ماہر رویا نکھا نے بی بی سی کو بتایا کہ بکنگھم پیلس کی جانب سے فوری ردعمل اس معاملے پر شاہی خاندان کی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔

برطانوی میڈیا نے محل کے حالیہ بیان کا موازنہ 2021 میں ملکہ الزبتھ دوم کے اس ردعمل سے بھی کیا ہے جو ہیری اور میگھن کی جانب سے شاہی خاندان پر نسل پرستی کے الزامات کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس وقت ملکہ نے کہا تھا کہ بعض لوگوں کی یادداشت میں واقعات کی تفصیلات مختلف ہوسکتی ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں