تحریر: فہمیدہ ریاض
شادی بیاہ ہو، کوئی جشن، میلہ یا خوشی کا موقعہ اگر گلوکار ہے تو اس سے فرمائش کی جائیگی اگر نہیں تو ایکو ساونڈ پر “ہو جمالو” گیت بجایا جائیگا اور شرکا دائرے میں رقص کرتے ہوئے ہوجمالو کا مصرعہ دہرائیں گے۔
ہوجمالو گیت سندھ کی ثقافت کا اٹوٹ حصہ بن چکا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں یہ جمالو کون تھا کیا واقعی اس کا سکھر کے پل سے کوئی تعلق ہے یا صرف کہانیاں بنائی گئی ہیں۔
ہوجمالو کا تعاقب کرتے ہیں۔
عابدہ پروین سے لیکر اصغر کھوسو تک ہر سطح ہر عمر کے گلوکاروں نے ہوجمالو گیت گایا ہے، سندھ ہو یا ہندھ ۔ یورپ امریکہ اس کی گونج ہر جگہ ہے، سندھی کلچرل ڈی پر تو ٹائم اسکوائر کا چورہا بھی اس گیت سے گونجتا ہے۔ لیکن
گزشتہ دو دہائیوں سے لینس ڈاؤن پل (روہڑی اور سکھر والی پل) کے بارے میں ایک داستان نے زور پکڑا ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا پوسٹس، ولاگز اور اسٹوریز میں یہ بھرمار کی گئی ہے کہ “ہو جمالو” میں “سکھر والی پل” سے منسوب کیا گیا ہے۔
جب لینس ڈاؤن پل بن کر تیار ہوئی تو اس پر سے ریل گزارنے کے لیے کوئی ڈرائیور تیار نہیں ہو رہا تھا۔ تب جیل میں موجود موت کی سزا پانے والے ایک قیدی سے کہا گیا کہ اگر وہ یہاں سے ریل گزارے گا تو اس کی سزا معاف کر دی جائے گی۔ ایک قیدی نے یہ پیشکش قبول کی اور ریل گزاری۔ اس قیدی کا نام جمال تھا جو گیت میں آکر “جمالو” بن گیا۔
کیا یہ حقیقت ہے یا افسانہ؟ یا جھوٹ کو سچ بنایا گیا ہے؟
صحافی، ادیب ممتاز بخاری نے اس پر ایک دلچسپ تحقیق کی ہے، وہ لکھتے ہیں کہ
لینس ڈاؤن پل کا سکھر والا چینل 1885ء میں مکمل ہوا، جس پر سے ریل کی گاڑیوں میں وزنی پتھر ڈال کر گزارا گیا، جس کی تصاویر موجود ہیں۔
یہ پل چھوٹا ہے۔ دوسرا مرکزی پل روہڑی چینل کہلاتا ہے جو 1889ء میں کھلا۔ اس وقت کے ریلوے مینوئل کے مطابق انجن کوئی اناڑی نہیں چلا سکتا تھا، کئی مہینوں کی ٹریننگ کے بعد ہی کسی کے لیے ریل چلانا ممکن ہوتا تھا۔
ممتاز بخاری سوال کرتے ہیں کہ جب 1889ء میں لینس ڈاؤن پل کا افتتاح ہوا تو سکھر میں کوئی جیل نہیں تھی۔ تو پھر موت یا عمر قید کا قیدی کہاں سے آیا؟
سکھر میں جیل بیسویں صدی میں بنی۔ اس سے پہلے جیل شکارپور میں تھی یا پھر خیرپور میرس میں۔ شکارپور میں جیل 1876ء میں مکمل ہوئی جس میں سکھر کے بکھر قلعے میں قید قیدیوں کو بھیجا گیا تھا۔ مطلب یہ کہ پل کے افتتاح کے وقت سکھر میں کوئی جیل نہیں تھی۔
لینس ڈاؤن پل روہڑی میں ہے۔ بیس سال پہلے تک اسے “روہڑی والی پل” یا “قینچی والی پل” کہا جاتا تھا۔ جمالو گیت میں پھر اسے “سکھر والی پل” کیسے کہا گیا؟ حالانکہ 1941ء میں شائع ہونے والی کتاب “سکھر سونھارو” میں بھی ایسی ایک روایت موجود ہے کہ ایک قیدی کو ریل گزارنے کا کہا گیا، لیکن اس میں یہ کہیں نہیں کہ وہ جمال یا جمالو تھا۔
اس کتاب میں بھی اسے محض سنی سنائی بات کہا گیا ہے۔ “سکھر والی پل” اصل میں سکھر بیراج ہے جو 1932ء میں مکمل ہوا، سندھ کے مشہور مؤرخ رحیم داد خان مولائی شیدائی کی اکیڈمی کی جانب سے شائع کردہ کتاب “سکھر کے مسلمان اور ہندو بزرگ” میں شیر محمد بلوچ کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں، جو مولائی شیدائی کے والد تھے:
“شیر محمد خان بہت بہادر آدمی سمجھے جاتے تھے کیونکہ سنہ 1888ء میں لینس ڈاؤن پل بننے کے بعد وہ پہلے ہندوستانی ڈرائیور تھے جنہوں نے اس پل سے ریل گاڑی گزاری۔”
مولائی شیدائی اپنے والد شیر محمد کے بعد ریلوے میں ملازم ہوئے۔ لگتا ایاس ہی ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے یہ بات سن کر لکھی ہوگی یا ریلوے میں ہونے کی وجہ سے انہیں یہ علم ہوگا۔ اس لیے سندھی گیت “ہو جمالو” والا جمال کوئی ایسا قیدی نہیں تھا جس نے روہڑی والے عرف قینچی والے پل سے ریل گزاری ہو۔
جمالو گیت میں ایک مصرعہ ” میرا جمالو جتوں کے ساتھ” بھی آتا ہے جت ایک بلوچ قبیلہ ہے، وقت کے ساتھ جمالو گیت میں کئی لوگوں نے اپنے رنگ بھرے اسی طرح اس کی تاریخ بھی کوئی حتمی نہیں اور اس کا کوئی دستاویزی ثبوت بھی موجود نہیں۔