آئی فون اور سام سنگ سمیت امپورٹیڈ موبائیل فونز کیوں مہنگے ہو رہے ہیں

فہرستِ مضامین

آئی فون اور سام سنگ گلیکسی جیسے بڑے برانڈز والے فون استعمال کرنے والے صارفن کے لیے بری خبر یہ فون چاہے استعمال شدہ ہوں لیکن ان پر ٹیکس پونے دوسو فیصد تک بڑہا دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ عام صارفین اور مارکیٹ پر کیسے اثر انداز ہوگا آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں

حکومت نے استعمال شدہ موبائل فونز پر کسٹمز ویلیو میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے اور کچھ کیسز میں یہ اضافہ 175 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب بیرونِ ملک سے منگوائے گئے پرانے موبائل فونز پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگے پڑیں گے کیونکہ ان پر عائد ٹیکس میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔
سادہ الفاظ میں کسٹمز ویلیو وہ قیمت ہوتی ہے۔ جس پر حکومت ٹیکس کا تعین کرتی ہے اور یہ ضروری نہیں کہ یہ وہی قیمت ہو جس پر صارف نے موبائل خریدا ہو۔


مثال کے طور پر اگر کسی نے فون 400 ڈالر میں خریدا لیکن حکومت اس کی ویلیو 500 ڈالر مقرر کرتی ہے تو ٹیکس 500 ڈالر پر ہی لیا جائے گا۔
نئی پالیسی کے تحت حکومت نے 62 مختلف موبائل فون ماڈلز کی ویلیو ازسرنو مقرر کی ہے اور واضح کیا ہے کہ فون کی حالت یا گریڈ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یعنی چاہے فون پرانا ہو یا تقریباً نیا، اس پر ایک ہی مقررہ ویلیو کے مطابق ٹیکس لاگو ہوگا۔
اس فیصلے سے مختلف برانڈز کے فونز کی قیمتوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر آئی فون 15 پرو میکس کی ویلیو 460 ڈالر سے بڑھا کر 505 ڈالر کر دی گئی ہے،
جبکہ آئی فون 14 پرو اور آئی فون 13 جیسے ماڈلز کی ویلیو میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح سام سنگ، گوگل پکسل اور ون پلس کے فونز بھی اس فیصلے سے متاثر ہوئے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ صارفین جو کم قیمت پر استعمال شدہ فون خریدنے کا سوچتے تھے، انہیں بھی زیادہ رقم ادا کرنا پڑے گی۔
اس پالیسی میں ایک اہم شرط یہ بھی شامل کی گئی ہے کہ درآمد کیے جانے والے تمام استعمال شدہ موبائل فونز کم از کم چھ ماہ پہلے ایکٹیویٹ ہو چکے ہوں۔


اس کا مقصد یہ ہے کہ نئے فونز کو “استعمال شدہ” ظاہر کر کے کم ٹیکس دینے کی کوشش کو روکا جا سکے۔ درآمد کنندگان کو فون کی ایکٹیویشن کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی، جن کی تصدیق کسٹمز حکام کریں گے۔
حکومت کے اس فیصلے کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ ٹیکس آمدنی میں اضافہ کرنا ہے، کیونکہ پاکستان کو اس وقت مالی دباؤ کا سامنا ہے اور حکومت زیادہ ریونیو اکٹھا کرنا چاہتی ہے۔
دوسری وجہ انڈر ویلیوایشن کو روکنا ہے، یعنی وہ عمل جس میں درآمد کنندگان اشیاء کی قیمت کم ظاہر کر کے ٹیکس بچاتے ہیں۔ نئی ویلیوایشن کے بعد اس طرح کی گنجائش کم ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ حکومت مارکیٹ کو زیادہ منظم اور دستاویزی بنانا چاہتی ہے تاکہ غیر رسمی یا غیر قانونی تجارت کو محدود کیا جا سکے۔


اگر کوئی موبائل ماڈل اس نئی فہرست میں شامل نہیں ہے تو اس کی ویلیو کسٹمز حکام خود قانون کے تحت طے کریں گے۔ مزید یہ کہ اگر کسی فون کی انوائس قیمت مقررہ ویلیو سے زیادہ ہو تو ٹیکس اسی زیادہ قیمت پر لاگو ہوگا۔
اس فیصلے کے اثرات براہِ راست عام صارفین پر پڑیں گے۔ موبائل فونز کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور استعمال شدہ فون خریدنا بھی پہلے جیسا سستا نہیں رہے گا۔ مارکیٹ میں طلب کم ہو سکتی ہے جبکہ درآمد کنندگان کے لیے کاروبار مہنگا ہو جائے گا۔
کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ زیادہ ٹیکس کی وجہ سے اسمگلنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ لوگ سستی متبادل راہیں تلاش کر سکتے ہیں۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے غیر قانونی تجارت کو روکنے اور معیشت کو دستاویزی بنانے میں مدد ملے گی۔
ٹیکس سے بچنے کے لیے پہلے ہی برانڈیڈ فون صرف سوشل میڈیا ایپس کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ مقامی مارکیٹ میں دستیاب فون زیادہ تر چین سے درآمد شدہ ہیں یا پاکستان میں اسمبل کیے جاتے ہیں جن پر صارفین کا اعتماد کم ہوتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں