آبنائے ہرمز پر امریکا کا کنٹرول؟ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، ایران نے نئی شرائط رکھ دیں

فہرستِ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اس اہم بحری گزرگاہ میں موجود ایرانی بارودی سرنگیں بھی صاف کر دی گئی ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز میں واحد مؤثر کنٹرول امریکی بحریہ کا ہے۔ ان کے مطابق امریکی افواج نے آبنائے کے پورے حصے سے بارودی سرنگیں ہٹا دی ہیں۔

ٹرمپ نے اس کے ساتھ ایران سے مالی معاوضے کا مطالبہ بھی کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کو ان ہلاکتوں اور نقصانات کی قیمت ادا کرنی چاہیے جنہیں وہ ایران سے منسوب کرتے ہیں۔

ٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ وہ آئندہ ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں معاوضے کا معاملہ بھی شامل کریں گے۔

امریکی صدر نے ایران پر جنگوں، حملوں اور احتجاجی مظاہروں کے دوران لوگوں کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے متاثرین کے خاندانوں کے لیے معاوضے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے 2000 میں امریکی جنگی جہاز ’یو ایس ایس کول‘ پر ہونے والے حملے کا بھی حوالہ دیا، جس میں 17 امریکی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم اس حملے کی ذمہ داری القاعدہ پر عائد کی گئی تھی، ایران پر نہیں۔

ہرمز کھولنے پر امریکا اور ایران آمنے سامنے

دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر اپنی شرائط برقرار رکھی ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکا کو پابندیاں ختم کرنے، فوجی کارروائیاں اور دھمکیاں روکنے اور حالیہ جنگ سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ دینے سمیت دیگر مطالبات پورے کرنا ہوں گے۔

ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے لیے نئے راستے طے کرنے پر بات چیت جاری ہے، تاہم تہران کے مطابق صرف بحری راستے کے تعین سے آبنائے مکمل طور پر نہیں کھلے گی۔

عالمی منڈی پر اثرات

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس میں طویل رکاوٹ عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی کشیدگی اور آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے لیے شرائط پر اختلاف کے باعث تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے

یوں ایک طرف واشنگٹن آبنائے پر کنٹرول کا دعویٰ کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب تہران اسے مکمل طور پر کھولنے کے لیے اپنی شرائط پر قائم ہے، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات مزید پیچیدہ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں