ارجنٹائن بمقابلہ مصر: ایک میچ، بے شمار تنازعات! کوچ کا ‘X’ اشارہ آخر کیوں تھا؟

فہرستِ مضامین

مصر کے کوچ کا وہ ‘X’ اشارہ آخر کس لیے تھا؟ منسوخ گول، دو متنازع پینلٹی اپیلیں، وی اے آر کے فیصلے اور آخری لمحات میں ارجنٹائن کی ڈرامائی واپسی… آخر ایسا کیا ہوا کہ پورا فٹبال ورلڈ کپ ایک ہی میچ پر بحث کرنے لگا؟ پوری کہانی بتا رہی ہیں ندا ممتاز۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پری کوارٹر فائنل میں ارجنٹائن اور مصر کے درمیان کھیلا گیا مقابلہ صرف ایک فٹبال میچ نہیں بلکہ تنازعات، جذبات اور ڈرامے کا مجموعہ بن گیا۔

مصر نے شاندار آغاز کرتے ہوئے ارجنٹائن کو سخت دباؤ میں رکھا اور دو گول کی برتری حاصل کر لی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ دفاعی چیمپیئن ورلڈ کپ سے باہر ہونے والے ہیں، لیکن اصل ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب وی اے آر نے مصر کے ایک اہم گول کو فاؤل قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا۔ یہی فیصلہ میچ کا پہلا بڑا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

دوسری جانب مصر نے دو مواقع پر پینلٹی کا بھی مطالبہ کیا، خاص طور پر آخری لمحات میں باکس کے اندر ہونے والی ٹکر کے بعد، مگر ریفری اور وی اے آر نے کھیل جاری رکھنے کا فیصلہ دیا۔ اسی حملے کے تسلسل میں ارجنٹائن نے جوابی وار کرتے ہوئے فیصلہ کن گول اسکور کر دیا، جس پر مصری کھلاڑی اور کوچ شدید احتجاج کرتے نظر آئے۔

میچ کے اختتامی لمحات میں مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے ریفری کی جانب ایک نمایاں ‘X’ کا اشارہ کیا، جس پر انہیں فوری طور پر ییلو کارڈ دکھایا گیا۔ بعد ازاں مختلف رپورٹس کے مطابق کوچ کا مؤقف تھا کہ وہ ریفری کی توجہ امتیازی سلوک اور غیر منصفانہ فیصلوں کی جانب دلانا چاہتے تھے، تاہم اس اشارے کی تشریح پر بھی نئی بحث چھڑ گئی۔

میچ کے بعد حسام حسن نے کھل کر ریفری کے فیصلوں پر تنقید کی اور کہا کہ مصر کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ دوسری جانب مصری فٹبال ایسوسی ایشن نے بھی وی اے آر کے استعمال اور ریفری کے فیصلوں پر شدید اعتراض کرتے ہوئے باضابطہ شکایت درج کرانے کا اعلان کیا۔

ادھر ارجنٹائن نے تمام تنازعات کے باوجود آخری گیارہ منٹ میں شاندار کم بیک کرتے ہوئے تین گول اسکور کیے اور 3-2 سے فتح حاصل کر کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی، جہاں اس کا مقابلہ سوئٹزرلینڈ سے ہوگا۔

اس میچ کے بعد سوشل میڈیا پر #VAR، #ArgentinaVsEgypt اور #HossamHassan کئی گھنٹوں تک ٹاپ ٹرینڈز میں شامل رہے۔ کچھ شائقین نے وی اے آر کے فیصلوں کو درست قرار دیا، جبکہ بہت سے سابق کھلاڑیوں، تجزیہ کاروں اور مداحوں نے فیصلوں کے تسلسل اور شفافیت پر سوالات اٹھائے۔

یہ مقابلہ ختم ضرور ہو گیا، لیکن اس کے فیصلوں پر بحث شاید ورلڈ کپ ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہے گی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں