امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ اسلام آباد ایم او یو پر دستخط کے بعد ایران نے سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ممکنہ بڑے تصادم کی تیاری بھی تیز کر دی تھی۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق جون کے وسط میں اسلام آباد ایم او یو پر دستخط کے بعد ایرانی سخت گیر قیادت نے تقریباً دو ماہ کے دوران اپنی عسکری اور سکیورٹی صلاحیتیں مضبوط کرنے پر توجہ مرکوز رکھی۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں پاسداران انقلاب کا باقاعدہ فوج پر کنٹرول بڑھایا گیا، اہم عسکری عہدوں پر جنگی تجربہ رکھنے والے افسران تعینات کیے گئے جبکہ داخلی انسدادِ انٹیلی جنس کارروائیوں کو بھی وسعت دی گئی۔
اخبار کے مطابق ایران نے میزائل اور ڈرونز کی پیداوار میں تیزی لانے کے ساتھ خطے میں اپنی عسکری پوزیشن بھی مضبوط کی۔ عرب انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی قیادت ایک ایسی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے جس کے ذریعے ممکنہ جنگ کا دائرہ وسیع کرکے امریکا پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک، خصوصاً کویت، کو بھی اس صورتحال پر تشویش ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایرانی قیادت کی توجہ دشمن کے خلاف ایسی کارروائیوں پر ہے جن سے مستقبل میں ایران پر بڑے حملوں کے امکانات کم کیے جا سکیں۔
ایرانی حکومت کے قریب سمجھے جانے والے دفاعی تجزیہ کار محمد حسن سنگتراش کے مطابق ایران میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ ’’اصل جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی‘‘ اور اب تک ہونے والی کارروائیاں بڑے تصادم سے قبل محدود اور مرحلہ وار کشیدگی کا حصہ ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیلی حکام کو یہ خدشہ بھی ہے کہ ایران اپنے تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور میزائل تنصیبات کو توقع سے زیادہ تیزی سے بحال کر رہا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس خلیج میں بحری جہازوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی قابلِ ذکر صلاحیت موجود ہے۔
اخبار نے عرب انٹیلی جنس رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران ایک طرف امریکا کے ساتھ سفارتی مذاکرات جاری رکھے ہوئے تھا، جبکہ دوسری جانب سکیورٹی اداروں کو ممکنہ بڑے تصادم کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے عراق، یمن اور لبنان میں اپنے اتحادی گروہوں کے ساتھ رابطے اور مشاورتی سرگرمیاں بھی بڑھائیں۔ بحیرۂ احمر کے قریب میزائل، بحری ہتھیار اور ڈرون لانچرز نصب کرنے کے اقدامات کے ساتھ یمنی گروہوں کو مبینہ طور پر انٹیلی جنس معلومات اور مختلف اہداف سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔
امریکی اخبار نے حکام کے حوالے سے مزید دعویٰ کیا کہ پاسداران انقلاب نے بعض خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا تو خطے میں موجود توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے جولائی میں تسنیم نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی کہا تھا کہ ایران نے جنگ بندی کے عرصے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ، میزائلوں کی پیداوار میں تیزی اور ان کی درستگی بہتر بنانے پر کام کیا۔
رپورٹ میں ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع کے حوالے سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ موجودہ امن مذاکرات کسی بڑے تنازعے سے قبل محض ایک عارضی وقفہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایرانی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کے مشیر مہدی محمدی نے موجودہ صورتحال کو ’’طوفان سے پہلے کی خاموشی‘‘ قرار دیا ہے۔