اسپین نے فرانس کو ہر شعبے میں مات دے کر ورلڈ کپ کے فائنل میں جگہ کیسے بنا لی؟

فہرستِ مضامین

ورلڈ کپ کے پہلے سیمی فائنل میں اسپین نے فرانس کو 0-2 سے شکست دے کر فائنل کا ٹکٹ حاصل کر لیا، لیکن یہ مقابلہ صرف دو گولوں کی جیت تک محدود نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسپین نے آغاز سے اختتام تک کھیل پر مکمل کنٹرول رکھا اور فرانس کو اپنی روایتی جارحانہ فٹ بال کھیلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔

مڈفیلڈ نے میچ کا رخ بدل دیا

اسپین کی کامیابی کی بنیاد اس کی مضبوط مڈفیلڈ رہی۔ روڈری، فابیان روئز اور دانی اولمو نے گیند پر قبضہ برقرار رکھتے ہوئے فرانسیسی مڈفیلڈ کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔ فرانس کے کھلاڑی نہ کھل کر پاسنگ کر سکے اور نہ ہی اپنے فارورڈز کو مؤثر انداز میں گیند پہنچا سکے۔

خود فرانسیسی کپتان کلیان امباپے نے اعتراف کیا کہ مڈفیلڈ میں اسپین کی برتری نے ان کی ٹیم کے لیے کھیل انتہائی مشکل بنا دیا۔

امباپے بے اثر کیوں رہے؟

دنیا کے خطرناک ترین اسٹرائیکرز میں شمار ہونے والے کلیان امباپے اس میچ میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق کھیل پیش نہ کر سکے۔ اس کی بڑی وجہ اسپین کی منظم دفاعی حکمت عملی تھی۔

اسپین نے مڈفیلڈ اور دفاع کے درمیان تمام راستے بند رکھے، جس کے باعث امباپے کو گیند ہی کم ملی۔ جب بھی انہیں موقع ملا، یا تو دفاع نے روک لیا یا ان کے شاٹس ہدف سے باہر چلے گئے۔ آخری لمحات میں ملنے والی فری کک بھی وہ گول میں تبدیل نہ کر سکے۔

لامین یامال کا مکمل پیکج

19 سالہ لامین یامال صرف حملوں میں ہی مؤثر ثابت نہیں ہوئے بلکہ دفاع میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کئی مواقع پر واپس آ کر فرانسیسی حملے روکے، امباپے کو ٹیکل کیا اور اپنی رفتار سے مسلسل حریف کو پریشان رکھا۔

یامال نے ایک خوبصورت گول بھی کیا تھا، تاہم معمولی آف سائیڈ کے باعث اسے مسترد کر دیا گیا۔

فل بیکس نے فرق پیدا کر دیا

مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو اسپین کے خاموش ہیرو ثابت ہوئے۔

کوکوریلا نے امباپے اور دیگر حملہ آوروں کو کھل کر کھیلنے نہیں دیا، جبکہ پیڈرو پورو نے دفاع کے ساتھ ساتھ حملوں میں بھی بھرپور حصہ لیا اور ایک شاندار فیلڈ گول اسکور کر کے فرانس کی واپسی کی امیدیں تقریباً ختم کر دیں۔

گول کیپر اونائی سیمون کی مضبوط کارکردگی

جب بھی فرانس نے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی، اسپین کے گول کیپر اونائی سیمون دیوار بن گئے۔ انہوں نے کئی مشکل شاٹس روکے اور باکس سے باہر نکل کر بھی بروقت مداخلت کی، جس سے اسپین کی دفاعی لائن مزید مضبوط دکھائی دی۔

مضبوط بینچ نے برتری برقرار رکھی

دوسرے ہاف میں اسپین نے متعدد تبدیلیاں کیں، مگر ٹیم کی رفتار اور دباؤ میں کوئی کمی نہ آئی۔ تازہ دم کھلاڑیوں نے فرانس کو کسی بھی مرحلے پر کم بیک کا موقع نہیں دیا، جبکہ فرانسیسی بینچ میچ کا نقشہ بدلنے میں ناکام رہا۔

کوچ کی حکمت عملی کامیاب رہی

اسپین کے کوچ لوئس ڈی لا فوئنٹے نے پورے میچ میں بہترین منصوبہ بندی کا مظاہرہ کیا۔ ٹیم نے خاص طور پر دائیں ونگ سے مسلسل حملے کیے، جہاں یامال اور پیڈرو پورو نے فرانس کے دفاع کو بار بار مشکلات میں ڈالا۔

دوسری جانب فرانس کے کوچ دیدیے دیشامپ کوئی مؤثر متبادل حکمت عملی پیش نہ کر سکے، جس کے باعث ٹیم مسلسل دباؤ میں رہی۔

فرانس کے پاس پلان بی نہیں تھا

جب اسپین نے فرانس کے روایتی حملہ آور انداز کو ناکام بنایا تو فرانسیسی ٹیم کے پاس کوئی دوسرا منصوبہ نظر نہیں آیا۔ امباپے، ڈیمبیلے اور اولیسے جیسے اسٹار کھلاڑی بھی کھلی جگہ نہ ملنے کے باعث بے اثر رہے اور ٹیم پورے میچ میں واضح مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہی۔

اسپین نے ایک بار پھر ثابت کر دیا

اس جیت نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ جدید فٹ بال صرف انفرادی صلاحیتوں سے نہیں بلکہ مضبوط ٹیم ورک، منظم حکمت عملی اور ہر کھلاڑی کے مشترکہ کردار سے جیتی جاتی ہے۔

اسپین کے فارورڈز دفاع میں بھی سرگرم رہے، فل بیکس حملوں میں شریک ہوئے، مڈفیلڈ نے کھیل کا کنٹرول سنبھالا اور گول کیپر نے ہر خطرناک موقع ناکام بنایا۔ یہی مکمل ٹیم ورک انہیں ورلڈ کپ کے فائنل تک لے گیا، جبکہ فرانس کو مسلسل تیسری مرتبہ بڑے ٹورنامنٹ میں اسپین کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں