امریکا اور سعودی عرب میں اربوں ڈالر کی جوہری ڈیل کیا ہے؟

فہرستِ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک اہم سول جوہری معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مملکت کو اپنے پرامن جوہری پروگرام کے لیے یورینیم افزودگی کی صلاحیت حاصل ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کا باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے۔ 30 سالہ معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں سول نیوکلیئر منصوبوں کی تعمیر، ٹیکنالوجی کی فراہمی اور جوہری انفراسٹرکچر کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مشترکہ امریکی اور سعودی تکنیکی جائزے کے بعد سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کی تنصیب قائم کرنے کی بھی اجازت دی جا سکتی ہے، تاہم معاہدے کو حتمی منظوری کے لیے امریکی کانگریس میں بھی پیش کیا جائے گا۔

رپورٹس کے مطابق اس معاہدے سے امریکی جوہری صنعت کو اربوں ڈالر کے معاشی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے، جبکہ سعودی عرب اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور معیشت کو تیل پر انحصار سے نکالنے کے منصوبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرے گا۔

سعودی عرب بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کا رکن ہے اور پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے فروغ کے عالمی اصولوں کا پابند ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری تعاون کا معاہدہ کرنے کی کوششیں سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں بھی کی گئی تھیں، تاہم اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری کے بعد اس منصوبے کو عملی شکل ملنے کی توقع بڑھ گئی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں