امریکی فوجیوں کو پکڑنے یا مارنے پر 30 ہزار ڈالر، ایران کا غیر معمولی اعلان

فہرستِ مضامین

ایران نے امریکی فوجیوں کو زندہ گرفتار کرنے یا ہلاک کرنے والے افراد کے لیے 30 ہزار ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایرانی فوج کے مطابق اگر یہ کارروائی کسی خاتون کی جانب سے کی گئی تو انعام کی رقم دگنی کر دی جائے گی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی کے مطابق یہ منصوبہ شہریوں کی جانب سے بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کے خلاف کارروائی میں حصہ لینے کی درخواستوں کے بعد سامنے آیا۔

امیر حاتمی نے کہا کہ کسی ’حملہ آور امریکی فوجی‘ کو قتل یا گرفتار کرنے والے شخص کو ایرانی فوج کی جانب سے 30 ہزار ڈالر، یعنی تقریباً پانچ ارب تومان، انعام دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ کارروائی کسی ’باہمت خاتون‘ نے انجام دی تو اسے دگنا انعام دیا جائے گا۔

ایرانی فوج کے سربراہ نے تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ امریکی فوجیوں کو گرفتار یا ہلاک کرنے کا موقع کب اور کہاں پیدا ہوا یا یہ انعام کس مخصوص صورتحال میں دیا جائے گا۔

ایران میں امریکی فوجیوں کی موجودگی؟

28 فروری سے جاری ایران اور امریکہ کے درمیان لڑائی کے دوران امریکی فوجیوں کی ایرانی سرزمین پر مستقل تعیناتی کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ تاہم اپریل میں ایک امریکی طیارہ ایران میں گرنے کے بعد پائلٹ کو بچانے کے لیے ایک بڑے امدادی آپریشن کی اطلاع سامنے آئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق اس کارروائی میں 200 سے زائد امریکی فوجیوں اور تقریباً 170 طیاروں نے حصہ لیا۔ امدادی مشن کے دوران ایرانی فورسز کی جانب سے ایک امریکی اے-10 طیارے کو نقصان پہنچنے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں، جسے بعدازاں ہنگامی طور پر اتارنا پڑا۔

امدادی کارروائی میں استعمال ہونے والے بعض طیاروں کو مبینہ طور پر تباہ کیے جانے کے بعد علاقے میں چھوڑ دیا گیا، جبکہ ایف-15 کے ایک پائلٹ کو بھی اس سے قبل بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔

جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار

ایران اور امریکہ کے درمیان تقریباً 10 روز تک جاری رہنے والی شدید لڑائی کے بعد اپریل میں عارضی جنگ بندی ہوئی اور مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تشکیل دیا گیا، تاہم بعد میں یہ عمل ناکام ہوگیا۔

اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، جس کی زیادہ تر اطلاعات ایران کے جنوبی علاقوں اور آبنائے ہرمز کے اطراف سے سامنے آئیں۔

دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ رابطے بھی جاری ہیں، تاہم اب تک سفارتی پیش رفت کے واضح آثار نظر نہیں آئے۔

ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے متعدد مطالبات پیش کیے ہیں، جن میں جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے 17 امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں جولائی کے دوران ہوئیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ تمام فوجی ایران کے بجائے اردن، عراق اور خطے کے دیگر ممالک میں ہلاک ہوئے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں