وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے آج تعلیمی سمٹ کے اختتامی مرحلے میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور مصنوعی ذہانت (AI) کا اثر تعلیم اور انسانی سوچ دونوں پر گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
اپنے خطاب کے آغاز میں انہوں نے کہا کہ “مصنوعی ذہانت نے حملہ کر دیا ہے، اب ہمیں دفاعی حکمت عملی کے بارے میں سوچنا ہوگا”۔ ان کے مطابق جو ٹیکنالوجی آج کام آسان بنا رہی ہے، وہی مستقبل میں نئے چیلنجز بھی پیدا کر سکتی ہے۔
سوچ، تخلیق اور انسان کی بقا
سید سردار علی شاہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ہماری سوچ، طرزِ فکر، تخلیقی صلاحیتوں اور مسئلہ حل کرنے کی استعداد کو آہستہ آہستہ متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیا ورثہ دے رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بچوں کو صرف اسکرینز تک محدود کرنا خطرناک ہے، کیونکہ اس سے ان کی تخلیقی اور عملی صلاحیتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
فطرت اور زمین سے تعلق کی اہمیت
وزیر تعلیم نے کہا کہ بچے تصویر دیکھ کر تو چیزیں پہچان لیتے ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ وہ حقیقت میں فطرت اور زمین سے کتنا جڑے ہوئے ہیں۔ اگر بچوں کو قدرت، ماحول اور حقیقی تجربات سے دور رکھا گیا تو مصنوعی ذہانت ان کی سوچ پر غالب آ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “مستقبل کی اصل ذہانت وہ ہے جو بچے کو زمین، فطرت اور اس کی خوبصورتی سے جوڑے رکھے”۔
ثقافت، شناخت اور عالمی تناظر
اپنے خطاب میں انہوں نے ایران اور امریکا کے تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ کم وسائل کے باوجود ایک قوم اپنی زمین اور شناخت کے لیے کیسے ڈٹ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کو اپنی ثقافت، معاشرے اور شناخت سے جوڑنا ناگزیر ہے، جبکہ ایران نے خاص طور پر STEM تعلیم پر اہم کام کیا ہے۔
تعلیم اور انسانی رابطہ
سید سردار علی شاہ نے کہا کہ تعلیم میں انسانی رابطہ، احساس اور مشاہدہ ہمیشہ بنیادی حیثیت رکھے گا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت سہولت فراہم کر سکتی ہے، مگر انسانی شعور اور جذبات کا متبادل نہیں بن سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے وقت میں وہی افراد کامیاب ہوں گے جو تخلیقی، تنقیدی اور عملی سوچ رکھتے ہوں گے۔
اساتذہ اور مستقبل کی تعلیم
وزیر تعلیم نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں اساتذہ کا کردار پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ ہمیں ایسا تعلیمی نظام تشکیل دینا ہوگا جو مقامی حقیقتوں، ماحول اور انسانی اقدار سے ہم آہنگ ہو۔
انہوں نے زور دیا کہ بچوں میں سوال کرنے، تحقیق کرنے اور سوچنے کی عادت پیدا کرنا ضروری ہے۔
سید سردار علی شاہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی انسان کی مددگار ہونی چاہیے، اس کا متبادل نہیں۔ سمٹ میں ماہرین تعلیم نے بھی جدید تعلیمی چیلنجز، مصنوعی ذہانت کے اثرات اور مستقبل کے لیے تیار طلبہ کی تیاری پر تفصیلی گفتگو کی۔