ایران۔امریکا مفاہمت کی امید، ٹرمپ کا جنگ بندی اور آبنائے ہرمز پر اہم بیان

فہرستِ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے اور انہیں توقع ہے کہ جنگ بندی کو مزید مستحکم کرنے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی سے متعلق ایک اہم معاہدہ آئندہ ہفتے تک طے پا سکتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ صورتحال حوصلہ افزا ہے اور تمام معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

لبنان تنازع پر کشیدگی جلد ختم ہوگئی، ٹرمپ

صدر ٹرمپ کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی دراصل ایک محدود نوعیت کا تنازع تھا جو لبنان کی صورتحال کے باعث پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی کارروائیوں پر ایرانی قیادت نے ناراضی کا اظہار کیا تھا، تاہم سفارتی کوششوں کے نتیجے میں معاملہ جلد حل کر لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ثالثوں کے ذریعے حزب اللہ سے رابطہ کیا گیا اور انہیں فائرنگ روکنے کا کہا گیا، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے بھی براہِ راست بات چیت کی گئی۔ ٹرمپ کے مطابق دونوں فریقوں نے بعد ازاں مزید حملوں سے گریز کرنے پر اتفاق کیا۔

امن معاہدہ عسکری کامیابی سے زیادہ اہم ہو سکتا ہے

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدہ خطے میں استحکام کے لیے کسی فوجی فتح سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برسوں کی کشیدگی کے بعد کسی بڑے معاہدے تک پہنچنا آسان نہیں، لیکن تمام فریق اس سمت میں پیش رفت کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات ایک پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور بعض معاملات پر مزید فیصلوں کی ضرورت ہے، تاہم مجموعی طور پر فریقین مطلوبہ نتائج کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ اگلے ہفتے متوقع

آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کرنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کے بارے میں سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اس حوالے سے پیش رفت تیز ہے اور اگلے ہفتے کے دوران کوئی اہم اعلان سامنے آ سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حتمی منظوری ابھی باقی ہے کیونکہ چند نکات پر مزید غور کیا جا رہا ہے۔

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں

دوسری جانب بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تہران نے واشنگٹن کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات روک دیے ہیں، لیکن صدر ٹرمپ نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ رابطے بدستور جاری ہیں۔

انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بھی لکھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں ایران کی جانب سے مذاکرات معطل کیے جانے کی کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق اگر کچھ عرصے کے لیے خاموش سفارت کاری اختیار کی جائے تو یہ بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

مذاکرات رک بھی جائیں تو جنگ نہیں ہوگی

این بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ اگر کسی مرحلے پر مذاکرات میں تعطل آتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ امریکا فوری طور پر فوجی کارروائی کی طرف جائے گا۔

البتہ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی بندرگاہوں اور تجارتی سرگرمیوں پر عائد امریکی پابندیاں فی الحال برقرار رہیں گی۔

ایک اور انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں غیر ضروری تشویش نہیں، تاہم بعد ازاں انہوں نے دوبارہ اس بات کی تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ سفارتی عمل جاری ہے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائر بندی

صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے نئی جھڑپوں سے گریز کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی تفصیلی گفتگو میں یقین دہانی کرائی گئی کہ اسرائیلی افواج بیروت کی جانب مزید پیش قدمی نہیں کریں گی۔

ٹرمپ نے کہا کہ جو فوجی دستے لبنان کے دارالحکومت کی سمت بڑھ رہے تھے انہیں واپس بلا لیا گیا ہے، جبکہ حزب اللہ نے بھی حملے روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

لبنان میں کشیدگی برقرار

اگرچہ فائر بندی پر اتفاق سامنے آیا ہے، تاہم جنوبی لبنان میں زمینی صورتحال بدستور پیچیدہ ہے۔ اسرائیلی افواج سرحدی علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں اور مختلف مقامات پر عسکری سرگرمیاں جاری ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فورسز جنوبی لبنان کے وسیع علاقے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہیں اور بعض مقامات پر مزید پیش قدمی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جسے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران لبنان میں اسرائیل کی بڑی عسکری پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی ثالثی سے مذاکرات کا آغاز

یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے رواں سال اپریل میں پاکستان کی ثالثی سے سفارتی رابطوں کا آغاز ہوا تھا۔ ان مذاکرات میں لبنان کی صورتحال بھی زیر بحث آئی تھی اور تہران نے مطالبہ کیا تھا کہ جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے کا اطلاق خطے کے تمام محاذوں، بالخصوص لبنان، پر بھی ہونا چاہیے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں