سندھ حکومت نے بیرسٹر غلام شبیر شاہ کو صوبے کا نیا پراسیکیوٹر جنرل مقرر کر دیا ہے۔ محکمہ قانون سندھ کی جانب سے ان کی تعیناتی کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
بیرسٹر غلام شبیر شاہ، وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کے صاحبزادے ہیں، جس کے باعث اس تقرری پر مختلف حلقوں میں بحث شروع ہو گئی ہے۔
سوشل میڈیا اور بعض عوامی حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک جانب سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) کے امتحانات میں کامیابی کے لیے ہزاروں امیدوار برسوں محنت کرتے ہیں اور متعدد باصلاحیت مگر کم وسائل رکھنے والے نوجوان سرکاری ملازمتوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب بااثر سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی اہم عہدوں پر تقرریوں پر میرٹ اور شفافیت کے حوالے سے سوالات سامنے آتے رہتے ہیں۔
تاہم حکومت کی جانب سے اس تعیناتی کو قانونی اور انتظامی تقاضوں کے مطابق قرار دیا گیا ہے، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے عمل کو مزید شفاف بنایا جانا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد مضبوط ہو اور تمام امیدواروں کو مساوی مواقع میسر آئیں۔
واضح رہے کہ پراسیکیوٹر جنرل کا عہدہ اس وقت خالی ہوا تھا جب سابق پراسیکیوٹر جنرل فیض شاہ کو سندھ ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ ان کی تقرری کے بعد ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل منتظر مہدی قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔