دنیائے کھیل کے سب سے بڑے مقابلے، فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 12 جون سے ہوگا۔
یہ تاریخی ایونٹ پہلی بار امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی پہلا موقع ہے کہ ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھا کر 48 کر دی گئی ہے۔
نئے فارمیٹ کے مطابق 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ہوں گی۔ مجموعی طور پر ٹورنامنٹ میں 104 میچز کھیلے جائیں گے۔
گروپ اسٹیج کے بعد ہر گروپ کی ٹاپ دو ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں داخل ہوں گی، اور اس بار پہلی مرتبہ راؤنڈ آف 32 کا مرحلہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے مقابلہ مزید سخت اور دلچسپ ہو جائے گا۔
بڑھے ہوئے ٹیموں کے ساتھ اس ورلڈ کپ میں قیاس آرائیاں بھی زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہیں، تاہم اے آئی پر مبنی اوپٹا سپر کمپیوٹر نے اپنی پیشگوئی جاری کر دی ہے۔
یہ نظام روایتی کمپیوٹر نہیں بلکہ ایک جدید ڈیٹا اینالیسس ماڈل ہے جو ہزاروں بار ٹورنامنٹ کے امکانات کو ڈیجیٹل طور پر سیمولیٹ کر کے نتائج اخذ کرتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس نے تقریباً 10 ہزار بار مختلف ممکنہ نتائج کی بنیاد پر تخمینے لگائے۔
سپر کمپیوٹر کے مطابق اس بار سب سے مضبوط امیدوار Spain ہے، جس کے ورلڈ کپ جیتنے کے امکانات 16.1 فیصد بتائے گئے ہیں۔
اس کے بعد France دوسرے نمبر پر، England تیسرے جبکہ Argentina چوتھے نمبر پر موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان تمام بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات 10 فیصد سے زیادہ ہیں، تاہم ڈیٹا یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ کسی نئی ٹیم کے پہلی بار چیمپئن بننے کے امکانات اب بھی نسبتاً کم ہیں۔
مزید پیشگوئیوں کے مطابق اسپین کے کوارٹر فائنل تک پہنچنے کے امکانات مضبوط ہیں، مگر حیران کن طور پر اسے کوارٹر فائنل سے پہلے باہر ہونے کا خطرہ بھی 52.1 فیصد تک بتایا گیا ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ کوارٹر فائنل تک پہنچتی ہے تو اس کے سیمی فائنل میں جانے کے امکانات 39 فیصد جبکہ فائنل تک پہنچنے کے امکانات 25.6 فیصد ہیں۔
فرانس کے ٹائٹل جیتنے کے امکانات 13 فیصد، انگلینڈ کے 11.2 فیصد اور ارجنٹینا کے 10.4 فیصد بتائے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق 48 ٹیموں کے فارمیٹ نے اس ورلڈ کپ کو پہلے سے کہیں زیادہ غیر یقینی اور دلچسپ بنا دیا ہے، جہاں کوئی بھی بڑی اپ سیٹ ممکن ہے۔