ایران کا سخت ردعمل، کویت اور بحرین کو بھی خبردار کر دیا

فہرستِ مضامین

ایران نے حالیہ امریکی کارروائیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں دفاعی اقدام نہیں بلکہ کھلی جارحیت، جنگی کارروائی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے سخت بیان میں امریکا پر شدید تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ واشنگٹن کے اقدامات نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

بیان کی اہم بات یہ تھی کہ ایران نے اپنی تنقید کا دائرہ صرف امریکا تک محدود نہیں رکھا بلکہ کویت اور بحرین کا نام بھی لیا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اگر کسی علاقائی ملک کی سرزمین یا فوجی تنصیبات ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہوئیں تو اسے بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایران نے واضح انتباہ دیا ہے کہ خطے میں موجود کسی بھی امریکی فوجی اڈے یا ایسی تنصیب کو، جہاں سے ایران کے خلاف حملے کیے جائیں، جوابی کارروائی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے مطابق امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی آئل ٹینکر اور جزیرہ قشم پر واقع ایک مواصلاتی مرکز کو نشانہ بنایا۔ ایران کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے جواب میں اس نے بدھ کی صبح امریکی پانچویں بحری بیڑے سے منسلک ایک فضائی اڈے اور ایک ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا۔

ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکی اقدامات ان کی سمندری تجارت اور جہاز رانی کے خلاف جارحیت ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران اپنی برآمدات اور معاشی سرگرمیوں کے لیے آبنائے ہرمز پر بڑی حد تک انحصار کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے ایران اور امریکا کے درمیان بیانات کا لہجہ مسلسل سخت اور اشتعال انگیز ہوتا جا رہا ہے، جس سے یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں