ایران امریکا  تنازع:  ہیگستھ کی جانب سے آرمی چیف کو ہٹانے پر پینٹاگون میں ہلچل

فہرستِ مضامین

واشنگٹن: امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اچانک امریکی فوج کے سربراہ جنرل رینڈی جارج کو فوری طور پر ریٹائر ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ خبر جمعہ کو مختلف امریکی میڈیا اداروں نے دی۔

رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ گزشتہ کئی دہائیوں میں پینٹاگون کی قیادت میں ہونے والی سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔

اس اقدام کے تحت آرمی کے تربیتی و تبدیلی کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ ہوڈن اور آرمی کے شعبۂ مذہبی خدمات کے سربراہ میجر جنرل ولیم گرین کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ یہ خبر سب سے پہلے واشنگٹن پوسٹ نے دی، جس کی بعد میں سی بی ایس نیوز اور دیگر اداروں نے بھی تصدیق کی۔

جنرل جارج کی ملازمت کی مدت، جو عموماً چار سال ہوتی ہے، تقریباً ڈیڑھ سال بعد ہی ختم کر دی گئی، جبکہ اس وقت امریکی افواج ایران کے خلاف پانچویں ہفتے کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ ہیگستھ ایسی قیادت چاہتے تھے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اپنی سوچ سے زیادہ مطابقت رکھتی ہو۔

جنرل جارج کی برطرفی روایات کے برخلاف ایک قدم ہے اور اس سے پینٹاگون کے اندر بڑھتی ہوئی کشیدگی ظاہر ہوتی ہے۔ وہ ایک پیشہ ور پیدل فوجی افسر اور ویسٹ پوائنٹ فوجی اکیڈمی کے فارغ التحصیل تھے، جنہیں 2023 میں اُس وقت کے صدر جو بائیڈن نے نامزد کیا تھا اور سینیٹ نے اس عہدے کے لیے منظور کیا تھا۔

ان کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ ہیگستھ کے دور میں ہونے والی وسیع تبدیلیوں کا حصہ ہے، جن کے دوران فضائیہ اور بحریہ سمیت مختلف شعبوں کے ایک درجن سے زائد سینئر افسران کو ہٹایا یا نظرانداز کیا جا چکا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کے اقدامات ایک بڑی جنگ کے دوران فوجی قیادت کے استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔

سی این این اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق اندرونی اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جنرل جارج نے آرمی کے سیکرٹری ڈینیئل پی ڈریسکول کے ساتھ مل کر کام کیا اور بعض معاملات میں ہیگستھ کی مداخلت کی مزاحمت کی۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق کشیدگی اس وقت بڑھی جب ترقیوں کی ایک فہرست پر اختلاف پیدا ہوا۔ جنرل جارج اور ڈریسکول نے ہیگستھ کی درخواست کے باوجود چار اقلیتی اور خواتین افسران کو ہٹانے سے انکار کر دیا، کیونکہ ان کی کارکردگی اور اہلیت مضبوط تھی۔

اب عارضی طور پر آرمی کی قیادت جنرل کرسٹوفر لا نیوے کے سپرد کر دی گئی ہے، جو اس وقت نائب چیف آف اسٹاف ہیں اور پہلے ہیگستھ کے معاون بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی تقرری کو ایسی قیادت کی طرف اشارہ سمجھا جا رہا ہے جو حکومتی پالیسیوں سے زیادہ ہم آہنگ ہو۔

لا نیوے کی تیز رفتار ترقی — 82ویں ایئربورن ڈویژن کی کمان سے لے کر آرمی کے اعلیٰ ترین عہدے تک — اس بحث کو جنم دے رہی ہے کہ آیا اعلیٰ فوجی تقرریوں میں سیاسی ہم آہنگی کا کردار بڑھ رہا ہے۔

ایران کے ساتھ جنگ میں شدت آنے کے ساتھ اس فیصلے کے تزویراتی اور عملی خطرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فوجی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے دوران آرمی کی اعلیٰ قیادت میں اچانک تبدیلی منصوبہ بندی، اتحادی افواج کے ساتھ ہم آہنگی اور طویل مدتی تیاری کو متاثر کر سکتی ہے۔

سی این این کے مطابق پینٹاگون نے اس تبدیلی کو براہِ راست جنگی حالات سے جوڑنے کی کوئی سرکاری وضاحت نہیں دی، جس سے یہ غیر یقینی پیدا ہو گئی ہے کہ اس کا اثر فوجی تعیناتی، رسد کے نظام اور مختلف افواج کے باہمی تعاون پر کیا پڑے گا۔

ملکی سطح پر بھی اس فیصلے پر قانون سازوں اور دفاعی ماہرین نے سوالات اٹھائے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطح پر بار بار تبدیلیاں سول و عسکری اعتماد کو کمزور کر سکتی ہیں اور ایران کے خلاف مہم کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔

تاہم ہیگستھ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ قیادت کو حکومتی پالیسیوں سے ہم آہنگ کرنا — خاص طور پر ممکنہ زمینی کارروائیوں کے تناظر میں — اس مہم میں نئی رفتار پیدا کر سکتا ہے، جو پہلے ہی مشکلات اور علاقائی مزاحمت کا سامنا کر رہی ہے۔

متعدد امریکی میڈیا اداروں کے مطابق جنرل جارج کی برطرفی صرف ایک ذاتی نوعیت کا اقدام نہیں بلکہ پینٹاگون میں ایک بڑی ادارہ جاتی تبدیلی کی علامت ہے، جس کے اثرات اس بات پر پڑ سکتے ہیں کہ امریکی فوج جنگ کیسے لڑتی ہے، اتحادیوں کے ساتھ کس طرح تعاون کرتی ہے، اور وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے سیاسی دباؤ کو کیسے سنبھالتی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ تنازع ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں