ترتیب: اِشفاق احمد جلبانی
اگر کل ایران، امریکہ اور اسرائیل اچانک جنگ بندی اور امن معاہدے کا اعلان کر دیں اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے، تب بھی اس جنگ کے اثرات ختم نہیں ہوں گے۔
جنگیں صرف اس وقت ختم نہیں ہوتیں جب میزائل برسنا بند ہو جائیں، بلکہ ان کے معاشی، تجارتی اور سیاسی زخم برسوں تک عالمی نظام کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔ قیمتوں میں اضافہ، تجارتی معاہدوں کی تبدیلی، مالیاتی دباؤ اور حکومتوں کی ساکھ پر پڑنے والے اثرات ایک طویل سلسلہ بن جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق 1990 کی خلیجی جنگ اس کی واضح مثال ہے۔ عراق کی تیل پیداوار جنگ سے پہلے کی سطح تک واپس آنے میں تقریباً ایک دہائی لگی، جبکہ عراق نے کویت کو اقوام متحدہ کے حکم کے تحت 52 ارب ڈالر سے زائد ہرجانہ 2022 تک ادا کیا۔
اسی طرح روس یوکرین جنگ کا سب سے شدید معاشی جھٹکا اگرچہ 2022 میں محسوس ہوا، مگر اس کے اثرات آج بھی دنیا بھر کی معیشتوں پر موجود ہیں اور جنگ ختم ہونے کے بعد بھی رہیں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران سے متعلق موجودہ تنازع ابھی اپنے حقیقی معاشی نقصانات ظاہر کرنا شروع ہوا ہے، اور اس کی قیمت وہ ممالک ادا کریں گے جن کا اس جنگ کو شروع کرنے میں کوئی کردار نہیں تھا۔
ماہرین کے مطابق اس جنگ کے عالمی اثرات چار مرحلوں میں سامنے آئیں گے۔
پہلا مرحلہ توانائی کے بحران کا ہے
پہلا مرحلہ توانائی کے بحران کا ہے، جو سب کو نظر آ رہا ہے۔ خام تیل مہنگا ہوتا ہے، ایل این جی کی قیمتیں بڑھتی ہیں، بحری مال برداری کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور پوری دنیا میں توانائی کی مہنگائی پھیل جاتی ہے۔
لیکن اصل مسئلہ صرف ایندھن نہیں بلکہ اس سے جڑی پوری عالمی سپلائی چین ہے۔ توانائی تقریباً ہر صنعتی اور زرعی مصنوعات کی لاگت کا بنیادی حصہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کھاد بنانے میں قدرتی گیس کی لاگت 70 سے 80 فیصد تک ہوتی ہے، اس لیے گیس مہنگی ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد کھاد کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں دباؤ اس لیے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ خلیجی خطہ دنیا کی تقریباً 30 فیصد امونیا اور 35 فیصد یوریا برآمد کرتا ہے، اور ان کی بڑی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔ اگر یہ راستہ متاثر ہوتا ہے تو نہ صرف توانائی بلکہ زرعی پیداوار بھی شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ دو زرعی سیزن کے اندر خوراک کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو جائیں گی، جبکہ 12 سے 18 ماہ کے دوران صنعتی مصنوعات بھی مہنگی ہو جائیں گی۔
یعنی خلیج میں شروع ہونے والا بحران آخرکار قاہرہ میں روٹی، ڈھاکا میں چاول اور افریقی کسان کے لیے کھاد کی قیمت تک پہنچ جاتا ہے۔
دوسرا بڑا اثر عالمی تجارتی نظام کے ڈھانچے پر پڑتا ہے، جس پر بہت کم بات کی جا رہی ہے۔
اس کی مثال بحیرہ احمر میں حوثی حملوں کے بعد سامنے آئی، جب جہاز رانی کا بڑا حصہ باب المندب سے ہٹ کر کیپ آف گڈ ہوپ کے طویل راستے پر منتقل ہو گیا۔ اس تبدیلی سے ایشیا سے یورپ تک سفر میں 16 سے 32 دن اضافی لگنے لگے جبکہ ہر سفر پر تقریباً 10 لاکھ ڈالر اضافی لاگت آنے لگی۔
اگرچہ بعد میں سیکیورٹی صورتحال کچھ بہتر ہوئی، مگر جہاز رانی کمپنیاں اور انشورنس ادارے نئے نظام کے مطابق خود کو ڈھال چکے تھے، اس لیے پرانا تجارتی راستہ مکمل طور پر بحال نہ ہو سکا۔
تیسرا اثر ترقی پذیر ممالک پر پڑے گا۔
امیر ممالک تو مالی ذخائر، مضبوط کرنسیوں اور متبادل سپلائرز کے ذریعے ایسے جھٹکے برداشت کر لیتے ہیں، مگر غریب ممالک میں اس کا نتیجہ درآمدات میں کمی، کرنسی کی گراوٹ، کھاد کی قلت اور بھوک کی صورت میں نکلتا ہے۔
کم آمدنی والے ممالک میں گھریلو اخراجات کا تقریباً 44 فیصد حصہ خوراک پر خرچ ہوتا ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح صرف 16 فیصد ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صرف مارکیٹ کی تبدیلی نہیں بلکہ دنیا کے غریب ترین طبقے سے دولت کا ایک خاموش انتقال ہے، جو بالآخر توانائی برآمد کرنے والے ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔
چوتھا اور سب سے خطرناک مرحلہ سیاسی عدم استحکام کا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ سپلائی چین کے بحران اکثر سیاسی بحران میں بدل جاتے ہیں۔ عرب بہار کے پیچھے بھی گندم کی بڑھتی قیمتوں کا بڑا کردار تھا، سری لنکا کی حکومت معاشی بحران کے باعث گری جبکہ پاکستان میں 2022 اور 2023 کی بے چینی بھی بڑھتی ہوئی عالمی توانائی قیمتوں اور ادائیگیوں کے بحران سے جڑی رہی۔
تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ ایران جنگ سے پیدا ہونے والی نئی مہنگائی ایسے ممالک کو متاثر کرے گی جو پہلے ہی معاشی کمزوری، محدود مالی وسائل اور عوامی بے اعتمادی کا شکار ہیں، اور کچھ حکومتیں شاید اس دباؤ کو برداشت نہ کر سکیں۔
ماہرین نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم (OIC) یا جی 77 کے تحت خوراک اور کھاد کے بڑے ذخائر قائم کیے جانے چاہئیں تاکہ رکن ممالک کو کم از کم ایک سال تک درآمدی بحران سے بچایا جا سکے۔
اسی طرح ترقی پذیر ممالک کے لیے مشترکہ “وار رسک انشورنس فنڈ” بنانے اور آئی ایم ایف کے نظام میں اصلاحات کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ جنگوں سے پیدا ہونے والے معاشی جھٹکوں کو صرف متاثرہ ممالک کی پالیسی ناکامی قرار نہ دیا جائے۔
ماہرین کے مطابق جب بھی ایران جنگ کے خاتمے کا کوئی امن معاہدہ ہوگا، اسے دنیا جنگ کا اختتام قرار دے گی، لیکن حقیقت میں اس جنگ کا اصل بوجھ ان معیشتوں پر برسوں تک پڑتا رہے گا جنہوں نے اس تنازع میں کوئی حصہ نہیں لیا۔