ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کو سزائے موت دیے جانے کی اطلاعات پر 30 سے زائد ممالک نے شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ مذمت کرنے والے ممالک میں فرانس، برطانیہ اور کینیڈا سمیت کئی مغربی ریاستیں شامل ہیں۔
مشترکہ بیان میں ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اختلافِ رائے رکھنے والے افراد کے خلاف سزائے موت کے استعمال کو فوری طور پر روکا جائے اور شہریوں کو اجتماع، احتجاج اور اظہارِ رائے کی آزادی سمیت ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔
یورپی یونین کے سفارت کاروں نے بھی ایران میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اختلاف کرنے والوں کو خاموش کرانے، مختلف طبقات کو خوفزدہ کرنے اور بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کے لیے پھانسی کی سزا کا استعمال ناقابلِ قبول ہے۔
32 ممالک مشترکہ بیان کا حصہ بن گئے
یہ مذمتی بیان ابتدائی طور پر یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس کی جانب سے سامنے آیا، جس کے بعد دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہوتے گئے۔ اب مشترکہ بیان کی حمایت کرنے والے ممالک کی تعداد 32 تک پہنچ گئی ہے۔
آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، آئرلینڈ، اٹلی اور جرمنی سمیت دیگر ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ سزائے موت کے استعمال کو ختم کیا جائے اور سیاسی یا احتجاجی سرگرمیوں کے باعث قید کیے گئے افراد کو رہا کیا جائے۔
مشترکہ بیان میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرے اور پرامن احتجاج اور اظہارِ رائے کو جرم تصور نہ کرے۔
احتجاج کیسے شروع ہوئے؟
ایران میں موجودہ احتجاجی لہر کا آغاز 28 دسمبر 2025 کو ہوا تھا۔ ابتدائی طور پر مظاہروں کی بڑی وجہ مہنگائی اور معاشی مشکلات بتائی گئی، تاہم بعد میں بعض مظاہروں میں حکومت کے خلاف سیاسی نعرے اور نظام میں تبدیلی کے مطالبات بھی سامنے آئے۔
مظاہروں کے دوران ایرانی حکومت کے خلاف سخت احتجاج دیکھنے میں آیا، جبکہ امریکہ کی جانب سے بھی تہران پر دباؤ بڑھایا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے سخت بیانات دیے تھے۔
ایران میں مظاہرین کو سزائے موت دیے جانے کے معاملے نے ایک بار پھر تہران اور مغربی ممالک کے درمیان انسانی حقوق کے حوالے سے کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔